تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 214

سے بعد کی ہے جیسا کہ ہمارا بھی یقین ہے اور جیسا کہ مستشرقین کے تسلیم کردہ اصول کے مطابق بھی یہ بات ثابت ہے تو پھر کوئی عقلمند یہ بات کس طرح مان سکتا ہے کہ مشرکین کے جس مطالبہ کا ردّ سور ہ ٔ کافرون میں قطعی طور پر کر دیا گیا تھا سورہ ٔ نجم میں اسی مطالبہ سے متاثر ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر کوئی ایسے الفاظ جاری ہو گئے جو کہ شرک کی کسی قدر تائید کرتے تھے۔نعوذباللہ من ذالک۔غرض اس سورۃ کے وقت ِ نزول کے متعلق جو مستشرقین نے بحث کی ہے وہ سورہ ٔ نجم کے مشہور واقعہ کی تردید کے لئے ایک بہت بڑا ثبو ت بہم پہنچا دیتی ہے۔ترتیب یہ سورۃ اپنے محل کے لحاظ سے جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں آخری زمانہ کے متعلق معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ پہلی سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی تھی۔پس گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں اور ہیں لیکن زور آئندہ زمانہ کے متعلق ہے۔اس سورۃ میں بتایا گیا ہے کہ ایک زمانہ میں کفر پھر اسلام پر غالب آجائے گا اور جہاں تک مادی حالات کا سوال ہے اسلام قریباً قریباً ختم ہو جائے گا۔لیکن اس وقت پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح دوبارہ دنیا میں کسی اپنے مثیل اور شاگرد کے ذریعہ سے ظاہر ہو گی اور دنیا کو پھر وہی چیلنج دے گی جو پہلے آپ نے دیا تھا اور کہے گی کہ خواہ کتنا زور لگا لو میں کفر سے مغلوب نہیں ہوں گا اور کفر کی باتوں کو تسلیم نہیں کروں گا۔یہ وہی زمانہ ہے جس کو مہدی یا مسیح کا زمانہ کہا جاتا ہے اور جس وقت دجال یا یاجوج وماجوج نے یعنی عیسائیت کے مذہبی اور سیاسی ظہور نے اسلام پر غلبہ پانا تھا اور بظاہر اسلام کی شان و شوکت کو مٹاکر عیسائیت کی حکومت کو مستحکم طور پر قائم کر دینا تھا۔یہ سورۃ بتاتی ہے کہ جہاں عام طور پر مسلمان مغربی خیالات سے متاثر ہو کر اس کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے وہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح غیر اسلامی خیالات کے آگے ہتھیار ڈالنے سے کلی طور پر انکار کر دے گی اور باوجود اس کے کہ تشدّد اور زبردستی سے اس زمانہ میں اسلام بالکل کام نہیں لے گا پھر بھی وہ کفر پر غالب آجائے گا اور انسانوں کے دل کفر و الحاد سے پاک ہو کر پھر اسلام کی طرف راغب ہو جائیںگے۔اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے ایک قریب کا تعلق بھی ہے پہلی سورۃ میں یہ بتایا گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑے بڑے انعامات نازل کئے جائیں گے۔ایسے بڑے بڑے انعام جن کی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں ملے گی اور آپ کو اللہ تعالیٰ ایک نئے آدم کی حیثیت کے طور پر دنیا میں پیش کرے گا جس کے مقابلہ میں اس کے دشمنوں کی نسل تباہ ہو جائے گی اور صرف آپ کی نسل باقی رہ جائے گی۔سورۂ کافرون میں اللہ تعالیٰ اس پہلی سورۃ کے مضمون کی