تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 212

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جبیر ؓسے یہ بات فرمائی کہ تم یہ سورتیں پڑھو تو تمہارا رعب بڑھ جائے گا۔اس سے درحقیقت اسی طرف اشارہ تھا کہ ان سورتوں میں اسلام کی مرکزی تعلیم کو پیش کیا گیا ہے اور اس پر مخالفت کے باوجود مستقل رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور جو شخص بھی مخالفانہ ماحول میں اپنے خیالات پر قائم رہنے کی جرأت دکھائے گا لازماً وہ اپنی اور اپنی قوم کی عزت قائم کر دے گا اور یہ جو فرمایا کہ اس سے تمہارا زادِ راہ بڑھ جائے گا۔اس میں بھی درحقیقت اسی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص دوسروں کے آگے سرنگوں ہونے سے انکار کر دے گا اسے یہ کبھی خیال نہیں آئے گا کہ کوئی میری خبر گیری کرے گا اور میری مدد کرے گا اور جب وہ لوگوں کی امداد کے خیال سے اپنے خیالات کو آزاد کر لے گا تو لازماً وہ حلال روزی اور باعزت روزی کے لئے کوشش بھی کرے گا۔کاش ہمارے نوجوان مغربی ممالک کی طرف سفر کرتے ہوئے یا ان ملکوں میں سفر کرتے ہوئے ان سورتوں کو پڑھیں اور ان کے مضمون پر غور کریں تو یقیناً وہ کفر کی طاقتوں سے کبھی متاثر نہ ہوں اور اپنی بے بسی اور اپنی ذلت اور اپنی قوم کی کمتری کا احساس ان کے دلوں سے جاتا رہے۔حق یہ ہے کہ انسان ظاہری حالات سے اتنا متاثر نہیں ہوتا جتنا کہ وہ اپنی شکست خوردہ ذہنیت سے متاثر ہوتا ہے۔حالات کی کمزوری کو بڑی آسانی سے بدلا جا سکتا ہے لیکن شکست خوردہ ذہنیت کو بدلنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے۔ایشیا کی گری ہوئی مالی حالت میں بھی لاکھوں لکھ پتی اور کروڑ پتی موجود ہیں لیکن شکست خوردہ ذہنیت سے محفوظ بہت کم لوگ ہیں۔باوجود یوروپ کے شدید مقابلہ کے دولت تو ہم نے کما لی لیکن اپنی ذہنیت کو ان کے حملہ سے محفوظ نہیں کر سکے اور یہی شکست خوردہ ذہنیت ہے جس کی اصلاح کی طرف ان سورتوں میں توجہ دلائی گئی ہے اور جس کا سامان ان سورتوں میں پیدا کیا گیا ہے۔سورۃ کافرون کا ایک اور نام اصمعی کہتے ہیں کہ پہلے زمانہ کے لوگ (یعنی تابعی اور صحابہ ؓ)کہا کرتے تھے کہ سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص مُقَشْقِشَتَانِ ہیں (یعنی یہ سورتیں نفاق سے بچانے والی ہیں اور قوت ایمانیہ پیدا کرنے والی ہیں )اور ابو عبیدہ ؓ کہتے تھے کہ جس طرح رال کھجلی کو دور کر کے تندرست کر دیتی ہے اسی طرح یہ سورتیں انسان کو شرک سے صحت بخشتی ہیں۔(قرطبی تعارف سورۃ الکافرون) وقتِ نزول نولڈکے کا خیال ہے کہ یہ سورۃ مکی زندگی کے پہلے دَور کے آخری زمانہ کی ہے یعنی چوتھے سال کے قریب کی۔اور اس کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ اسی وقت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کفار سے بحث کرنے کے قابل ہوئے تھے۔کیونکہ مسلمانوں اور مشرکوں میں بحث اور مجادلہ کے ابتدائی زمانہ کے بعد دونوں فریق کے اصولی خیالات متعین ہو گئے تھے اور وہی وقت درحقیقت مذہبی بحث کا ہوتا ہے۔