تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 194

تورات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جو حالات درج ہیں ان سے تو آپ کی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی۔لیکن قرآن کریم ہمیں کہتا ہے کہ وہ سچے نبی تھے اور اس تصدیق کی وجہ سے ہم موسٰی کی نبوت پر ایمان لاتے ہیں۔گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے اس لئے نہیں مانا کہ تورات کہتی ہے کہ وہ نبی ہیں بلکہ ہم نے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مُہر کی وجہ سے نبی مانا ہے۔اسی طرح قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کہا کہ وہ نبی تھے تو ہم نے بھی انہیں نبی مان لیا۔ورنہ انجیل پڑھ کر ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی نہیں مان سکتے تھے۔انجیل میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ آپ شراب پی رہے تھے۔حضرت مریم صدیقہ بھی اسی محفل میں شریک تھیں کہ شراب ختم ہوگئی۔حضرت مریم بہت گھبرائیں کہ مہمان بیٹھے ہوئے ہیں اور شراب ختم ہو گئی ہے بہت بدنامی ہو گی۔انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ذکر کیا جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پانی کے مٹکوں پر ہاتھ پھیرا اور وہ شراب کے بن گئے۔(یوحنا باب ۲ آیت ۱تا۱۱) پھر لکھا ہے کہ آپ کے شاگرد ایک دفعہ کسی کے کھیت میں گھس گئے اور مالک کی اجازت کے بغیر انہوں نے پھل کھایا۔لوگوں نے شکایت کی تو بجائے اس کے کہ آپ اپنے ساتھیوں کو سمجھاتے۔آپ نے کھیت والوں کو ڈانٹا اور کہا دولہا کی موجودگی میں کوئی اعتراض نہیں کر سکتا(متی باب ۱۲ آیت ۱ تا ۸) اسی طرح انجیل میں لکھا ہے کہ سؤروں کا ایک ریوڑ چر رہا تھا۔آپ نے ان پر بھوت چڑھا دیئے اور وہ سب کے سب دریا میں کود کر ڈوب گئے۔گویا دوسرے کا آپ نے شدید مالی نقصان کیا(لوقا باب ۸ آیت ۲۶ تا ۳۴) ان انجیلی واقعات کی موجودگی میں ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہاں نبی مان سکتے تھے۔ہم تو ان کو اگر نبی مانتے ہیں تو اس لئے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ نبی تھے۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نبی تھے جب قرآن کریم نے کہا کہ آپ نبی تھے تو ہم نے بھی مان لیا کہ آپ نبی تھے۔اسی طرح اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا شخص آتا ہے جو آپ کی تعلیم کو جھوٹا قرار دیتا ہے یا آپ پر عیب چینی کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہو گا۔کیونکہ اس کی نبوت پر آپ کی مہر نہیں ہو گی۔ہاں اگر وہ آپ کے نقشِ قدم پر چلنے والا ہو گا اور آپ کی پیشگوئیاں اس کے حق میں ہوں گی تو ایسے نبی کے آنے سے آپ کی ہتک نہ ہوگی۔کیونکہ وہ آپ کے کمالات کو ظاہر کرنے والا ہو گا۔اور وہ کوئی غیر وجود نہیں ہو گا بلکہ آپ کا ہی روحانی بیٹا ہو گا۔میں اس موقعہ پر یہ ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ عام مسلمان خاتم النبیین کے یہ معنے کرتے ہیں کہ آپ آخری نبی ہیں۔اور وہ اس کی یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِ وَمَسْجِدِیْ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ (مسلم کتاب الـحج بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِـمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ) میں نبیوں میں