تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 193

خط پر ثبت کر کے تصدیق کر سکیں کہ یہ خط واقعہ میں میری طرف سے لکھا گیا ہے(بخاری کتاب اللباس باب نقش الخاتم) آج کل عدالتیں بھی یہ لکھا کرتی ہیں کہ فلاں اشتہار بمہر عدالت جاری ہوا۔یعنی عدالت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اشتہار ہماری طرف سے ہے پس نبیوں کی مہر کے یہ معنے ہوئے کہ آپ نبیوں کی تصدیق کرنے والے ہیں جس پر آپ کی مہر ہو گی وہ نبی ہو گا اور جس پر آپ کی مہر نہیں ہو گی وہ نبی نہیں ہو گا۔پھر مُہر ہر کسی چیز پر نہیں لگائی جاتی بلکہ صرف اس چیز پر لگائی جاتی ہے جو اپنی ہو۔پس خاتم النبیین کے الفاظ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ آپؐکے بعد صرف وہ نبوت جاری ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت اور غلامی میں ہو۔اگر آپ کے بعد کوئی ایسا آدمی کھڑا ہوجاتا ہے جو کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت نعوذباللہ ختم ہو گئی ہے تو وہ جھوٹا ہے۔کیونکہ آپ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ختم نہیں ہو سکتا۔بلکہ اگر وہ کہتا ہے کہ میں نبوت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہوں تب بھی وہ جھوٹا ہے کیونکہ کوئی شخص درجہ میں آپ کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔لیکن وہ شخص جو کہتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس مقام پر اس لئے فائز کیا ہے تا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی اشاعت کروں اور مجھے جو کچھ ملا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور اطاعت میں ملا ہے۔اگر قرآن کریم اور احادیث نبوی اس کی تصدیق کریں تو اس کا دعویٰ نبوت سچا ہو گا کیونکہ ایسے شخص پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مُہر ہوگی اور جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ہو وہ اُمتی اور شاگرد ہونے کی وجہ سے آپ کا روحانی بیٹا ہو گا اور درحقیقت یہی وہ بیٹا تھا جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ کوثر میں بشارت دی گئی تھی۔مگر لوگوں نے غلطی سے اسے ظاہری اولاد پر چسپاں کر لیا۔اللہ تعالیٰ سورۃ احزاب میں اس شبہ کا ازالہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ تمہاری اپنی غلطی تھی کہ تم نے اس آیت کو ظاہری اولاد پر چسپاں کر لیا۔ہماری مراد تو روحانی اولاد سے تھی اور ہم یہ بتانا چاہتے تھے کہ یہ مقام صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی حاصل ہے کہ آپ کی غلامی اور متابعت میں انسان نبوت کا مقام بھی حاصل کر سکتا ہے جو مقام صرف مردوں کو ملتا ہے عورتوں کو نہیں۔پس ایسے شخص کے پیدا ہونے سے ثابت ہو جائے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روحانی اولاد کے باپ ہیں اور آپ کا دشمن اس اولاد سے محروم ہے۔گویا آپ کی روحانی اولاد کا سلسلہ ہمیشہ ایسے رنگ میں جاری رہے گا کہ آپ کی غلامی میں انسان بڑے سے بڑا روحانی مقام بھی حاصل کر سکے گااور یہ ثبوت ہو گا اس بات کا کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے اولاد نرینہ عطا فرمائی ہے مگر آپ کا دشمن اس سے کلی طور پر محروم ہے۔پھر پچھلے انبیاء کی نبوت بھی آپ کی تصدیق کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتی۔اور نبیوں کو جانے دو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی نبوت ہی ہم کیسے مان سکتے تھے اگر قرآن کریم نہ کہتا کہ وہ نبی ہیں۔