تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 195
سے آخری نبی ہوں اور میری مسجد مسجدوں میں سے آخری مسجد ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا مفہوم کیا ہے سو اس بارہ میں یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اس حدیث کا دوسرا حصہ اس کے پہلے حصہ کے معنوں کی وضاحت کر دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ اَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِ بلکہ اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مَسْجِدِیْ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ۔میری مسجد تمام مساجد میں آخری مسجد ہے۔اب کیا کوئی مسلمان اس کے یہ معنے کر سکتا ہے کہ مسجد نبوی کے بعد اور کوئی مسجد نہیں بن سکتی۔خود مسلمانوں نے دنیا میں ہزاروں ہزار مسجدیں بنوائی ہیں۔جن کی تقدیس کا کوئی شخص انکار نہیں کرتا۔اگر اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ کے یہی معنی ہوتے کہ مسجد نبوی کے بعد کوئی مسجد نہیں بن سکتی تو مسلمان ہرملک اور ہر علاقہ اور ہر شہر اور ہر قصبہ بلکہ ہر گاؤں میں کیوں مساجد بناتے۔ان کا جگہ جگہ مسجدیں بنانا بتاتا ہے کہ وہ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ کے یہی معنے سمجھتے ہیں کہ آئندہ وہی مسجد مسجد کہلا سکتی ہے جو مسجد نبوی کی نقل میں بنوائی گئی ہو۔اگر آپ کی مسجد کے بعد دوسری مساجد کا بننا اس صورت میں کہ وہ آپ کی مسجد کی نقل ہوں، اس حدیث کو ردّ نہیں کرتا تو ایک ایسے نبی کا آنا جو آپ سے الگ نہ ہو بلکہ آپ کا تابع اور اُمتی ہو، وہ آپ کے آخر الانبیاء ہونے کو کس طرح ردّ کر سکتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ زمانہ میں لوگوں کے دلوں میں جو وساوس پیدا ہونے والے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھتے ہوئے اَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِ کہنے کے ساتھ ہی وَمَسْجِدِیْ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ بھی کہہ دیا۔تالوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اٰخِر کے کیا معنے ہیں۔جس طرح وہ مسجد جو آپ کی مسجد کی نقل میں بنائی گئی ہو آپ کی مسجد کی آخریت کو نہیں توڑتی اسی طرح وہ نبی جو آپ کے نقش قدم پر آئے، آپ کا تابع اور اُمتی ہو۔وہ آپ کی آخریت کو نہیں توڑتا۔گویا ایسا نبی جو آپ کے نقش قدم پر نہ آئے جو اپنے آپ کو مستقل نبی قرار دے اور جو آپ کے فیضان کا انکار کرے وہ تو آپ کی نبوت کی آخریت کو توڑنے والا ہے لیکن ایسا نبی جو آ پ کے نقش قدم پر چلنے والا ہو، آپ کی شریعت کو جاری کرنے والا ہو اور اس کا وہی کلمہ ہو جو اسلام کا کلمہ ہے۔وہی نمازیں ہوں جو اسلام میں پائی جاتی ہیں۔وہی تعلیم ہو جو اسلام کی تعلیم ہے تو وہ آپ کی نبوت کی آخریت کو توڑنے والا نہیں ہو گا۔جیسے ایک مسجد جس کا قبلہ وہی ہو جو آپ کی مسجد کا قبلہ تھا اس میں اسی طرح نمازیں پڑھی جائیں جس طرح آپ کی مسجد میں پڑھی جاتی تھیں اور ان نمازوں میں وہی الفاظ ادا کئے جائیں جو آپ نے ادا کئے وہ آپ کی مسجد کی آخریت کی ناقض نہیں اور نہ ایسی مسجد بنانے سے یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ آپ کی مسجد آخری مسجد نہیں۔وہ تو دراصل آپ کی مسجد کا ہی ایک حصہ ہوگی اور کسی چیز کا حصہ ہونا اصل کا ناقض نہیں ہوتا۔اسی طرح وہ نبی جو آپ کا شاگرد ہو آپ کا روحانی فرزند ہو آپ کے فیوض سے اسے یہ مقام حاصل ہوا ہو، آپ کی شریعت کو جاری