تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 187

گو اس کی اولاد چلی مگر اس کے عقائد اور خیالات کو اس نے نہیں پھیلایا۔بلکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پھیلانے میں لگ گئی۔پس یہاں اولاد سے جسمانی اولاد مراد نہیں بلکہ روحانی اولاد ہے۔اگر جسمانی اولاد مراد لی جائے تو آیت کی دونوں دلالتیں غلط ہو جاتی ہیں۔کیونکہ اس میں کہا گیا ہے کہ آپ کے دشمن کی نرینہ اولاد نہیں ہو گی حالانکہ اس کی اولاد تھی۔اور پھر کہا گیا ہے کہ آپ کی نرینہ اولاد ہو گی حالانکہ آپ کی نرینہ اولاد نہیں تھی۔لیکن اگر روحانی معنے مراد لئے جائیں تو دونوں باتیں صحیح ہوجاتی ہیں۔یہ بات بھی صحیح ہو جاتی ہے کہ ابو جہل کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ولید کی کوئی اولاد نہیں تھی۔عاص کی کوئی اولاد نہیں تھی اور یہ بات بھی صحیح ہو جاتی کہ آپ کی روحانی اولاد کا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے قائم رکھا۔عتبہ کی نسل کے متعلق مجھے اِ س وقت یاد نہیں کہ اس کی ظاہری نسل چلی تھی یا نہیں۔لیکن اگر اس کی نسل ہو گی بھی تو وہ مسلمانوں میں ہی چھپی ہو گی بہر حال اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ مضمون بیان فرما تا ہے کہ ہم تجھے ایک خیر کثیر رکھنے والا روحانی بیٹا عطا فرمائیں گے جس سے دنیا پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ تُو نہیں بلکہ تیرا دشمن ہی نرینہ اولاد سے محروم ہے۔یہاں ایک اور بات بھی مدّ ِنظر رکھنے والی ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو مسلمانوں کی مائیں قرار دیتا ہے۔جب وہ مومنوں کی مائیں ہوئیں تو لازماً محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کے باپ ہوئے اور تما م مومن آپ کی اولاد میں شامل ہو گئے۔اب اولاد میں لڑکیاں بھی شامل ہوتی ہیں اور لڑکے بھی شامل ہوتے ہیں۔مگر اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ اور اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ میں یہ خبر دی گئی ہے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم ایک خیر کثیر رکھنے والا روحانی بیٹا عطا فرمائیں گے اور اس کا دشمن نرینہ اولاد سے محروم ہو گا۔اب لازماً کوئی ایسا رتبہ اور عہدہ بھی ہونا چاہیے جو اس اولاد کو نرینہ اولاد ثابت کر دے اور جس کے وجود سے یہ ثابت ہو جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نرینہ اولاد سے محروم نہ تھے۔اس نقطۂ نگاہ سے جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مومن کا عہدہ تو لڑکیوں کے لئے بھی ہے اور لڑکوں کے لئے بھی۔شہادت اور صدیقیت کے مقامات بھی مرد کی طرح عورتیں بھی حاصل کر سکتی ہیں لیکن نبوت ایک ایسا عہدہ ہے جو کبھی کسی عورت کو نہیں ملا۔اور یہ مرد کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے۔یہاں چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بہت بڑے روحانی بیٹے کی خوشخبری دی گئی ہے اس لئے آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ تیرے دشمن کی اولاد کٹ جائے گی لیکن تیری نسل میں سے اللہ تعالیٰ ایک ایسا انسان پیدا کرے گا جو نبوت کے مقام پر فائز ہو گا۔یہی مضمون ایک اور جگہ بھی بیان کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ