تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 188

رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا (الاحزاب:۴۱) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف اور آگاہ ہے۔یہ آیت سورۂ احزاب کی ہے جو ہجرت کے چوتھے سال میں نازل ہوئی تھی۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ مضمون بیان فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔لیکن سورۃ کوثر میں جو ابتدائی ایام نبوت میں نازل ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ۔تیرا دشمن ہی نرینہ اولاد سے محروم رہے گا تُو نرینہ اولاد سے محروم نہیں ہو گا۔اب بظاہر ان دونوں آیات میں بڑا تضاد نظر آتا تھا اور انسان حیران ہوتا تھا کہ یہ بات کیا ہے کہ وہاں تو کہا گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد ہو گی مگر یہاں یہ کہا گیا ہے کہ آپ کی نرینہ اولاد نہیں ہو گی۔گویا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ وہ اعتراض جو کفار مکہ کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذباللہ ابتر ہیں اس اعتراض کو خود قرآن کریم نے تسلیم کر لیا اور کہہ دیا کہ آپؐمردوں میں سے کسی کے باپ نہ ہیں نہ آئندہ ہوں گے۔رَجُلٌ کے معنے مرد اور کامل انسان کے ہوتے ہیں اور اکثر اہل لغت اسے جوان مرد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اور گو بعض ذَکر کے معنے بھی لیتے ہیں لیکن عربی کا عام استعمال مرد کے لئے ہی ہے۔تاج العروس میں لکھا ہے اِنَّـمَا ھُوَ فَوْقَ الْغُلَامِ وَ ذَالِکَ اِذَااحْتَلَمَ وَ شَبَّ یعنی لڑکا جب بالغ ہو جائے اور جوانی کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے رجل کہتے ہیں۔گو اس کے بر خلاف محض ذکر کے معنے بھی لکھے ہیں مگر محاورہ میں اس کی سند نہیں صرف بعض علماء کا قول ہے پس مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ سے مراد یہی ہے کہ آپ کی ذکور اولاد میں سے کوئی بلوغ کو نہیں پہنچا۔اس وقت بھی نہیں ہے اور آئندہ بھی نہیں پہنچے گا۔پس پہلی نرینہ اولاد اور بعد کی اولاد اس آیت کے خلاف نہیں ہے کیونکہ ان میں سے کوئی بھی بلوغ کو نہیں پہنچا۔اس آیت سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد یہ تھی (۱)سب سے پہلے قاسم ہوئے جن سے آپ کی کنیت مشہور ہے اور آپ ابو القاسم کہلاتے تھے۔صحیح تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی وہ چھوٹے بچے تھے کہ فوت ہو گئے گو بعض روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ آپ سواری پر چڑھنے کے قابل ہو گئے تھے تب بھی بلوغ کسی تاریخ اور حدیث سے ثابت نہیں اور یہ روایت بھی کمزور ہے۔(۲)دوسرے بیٹے عبد اللہ تھے۔ان کے لقب الطیب اور الطاہر بھی ہیں۔بعض کے نزدیک یہ دعویٰ نبوت سے پہلے پیدا ہوئے تھے اور بعض مؤرخین کے نزدیک یہ دعویٰ نبوت کے بعد پیدا ہوئے تھے زیادہ صحیح یہی ہے کہ دعویٰ نبوت کے بعد پیدا ہوئے تھے کیونکہ مضبوط اور قوی روایتوں سے اس کا پتہ چلتا ہے۔الطیب اور الطاہر ناموں کے متعلق یہ معلوم نہیں