تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 186
طرف اشارہ کر رہا ہے کہ تیرا دشمن اپنے عقائد کو چلانےوالی نسل سے ہمیشہ کے لئے محروم رہے گا لیکن تُو صاحب اولاد ہو گا چنانچہ دیکھ لو عکرمہؓ جسمانی طور پر ابو جہل کا بیٹا تھا لیکن وہ مسلمان ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا بن گیا۔گویا بیٹا ہوتے ہوئے بھی ابو جہل یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ میری اولاد موجود ہے۔آخر یہ سوچنے والی بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہنے سے دشمن کی مراد کیا تھی۔اس کی مراد یہی تھی کہ ہمارے عقائد کو ہمارے بعد قائم رکھنے والی اولاد موجود ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو قائم رکھنے والی اولاد موجود نہیں۔اس لئے ان کا قائم کردہ سلسلہ جلد ہی تباہ ہو جائے گا لیکن جب ابو جہل کا بیٹا عکرمہ ؓ مسلمان ہو گیا اور اسلام کے لئے اس نے قربانیاں کیں تو جو دعویٰ ابو جہل نے کیا تھا وہ جھوٹا ہو گیا کیونکہ اس کا اپنا بیٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقائد کو پھیلانے لگ گیا۔ابو جہل سمجھتا تھا کہ میں مر جاؤں گا تو میرے خیالات اور عقائد کو قائم رکھنے کے لئے اولاد موجود ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم قائم نہیں رہے گی اس لئے کہ آپ کی اولاد موجود نہیں۔مگر جب اس کا اپنا بیٹا مسلمان ہو گیا تو اس کا یہ دعویٰ غلط ہو گیا۔پھر ولید اسلام کا بڑا دشمن تھا اور وہ سمجھتا تھا کہ میری اولاد میرے عقائد کو قائم رکھے گی لیکن اس کا بیٹا خالد ؓ مسلمان ہو گیا اور اس نے اسلام کے لئے ایسی شاندار قربانیاں کیں کہ آج بھی ہم بہادری کی مثال دیتے وقت کہتے ہیں کہ تم خالد ؓ بنو۔یہ خالدؓ وہی ہے جو ولید کا بیٹا تھا۔وہ ولید جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید ترین مخالفت کیا کرتا تھا جو آپ پر گند پھینکا کرتا تھا اور جو نماز پڑھتے وقت آپ پر جانوروں کی اوجھریاں ڈال دیتا تھا۔اس کا اپنا بیٹا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فدائی اور جاں نثار ثابت ہوا اور اس نے ساری عمر اسلام کی خدمت میں بسر کر دی۔جب خالدؓ آپؐ کے متبع ہوئے اور آپ پر قربان اور فدا ہوئے تو گویا خالد ؓ آپ کا بیٹا بن گیا اور ولید اولاد سے محروم ہو گیا۔پھر عاص ہے یہ بڈھا رات دن لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اکساتا رہتا تھا اور اسلام کا شدید ترین دشمن تھا مگر اس کے بیٹے حضرت عمروؓ آپؐپر ایمان لائے اور وہ بڑے پایہ کے صحابیؓ ثابت ہوئے۔مصر آپ نے ہی فتح کیا تھا اور شام کی لڑائیاںبھی آپ نے ہی لڑیں۔گویا عاص بے اولاد رہا کیونکہ اس کی اپنی اولاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد بن گئی۔پھر ابو سفیان تو خود ہی مسلمان ہو گیا تھا اس لئے اس کی دشمنی کا کوئی سوال ہی نہ رہا۔اس کے بیٹے حضرت معاویہ ؓ تھے وہ بھی اسلام کے بڑے خدمت گذار ثابت ہوئے۔غرض گو جسمانی اولاد کے لحاظ سے اس آیت کے کوئی معنے نہیں بنتے لیکن اگر روحانی معنے مراد لئے جائیں تو یہ آیت ایک زندہ حقیقت ثابت ہوتی ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابو جہل لا ولد تھا۔کیونکہ اس کے خیالات اور عقائد کو چلانے والی اولاد موجود نہیں تھی۔ولید لا ولد تھا کیونکہ اس کی اولاد بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی متبع ہو گئی عاص لا ولد تھا کیونکہ