تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 180

یہ دونوں چیزیں ایسی ہستیوں سے وابستہ ہیں جو مقتدر ہوں مثلاً ایک فقیر کسی اجنبی علاقہ میں جاتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ فلاں مکان شاندار ہے۔دروازے پر چند ملازم بھی کھڑے ہیں تو وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مالک صاحب مقدرت ہے اور وہ یہ سمجھ کر اس دروازہ پر جاتا ہے کہ مجھے یہاں سے کچھ مل جائے گا بعض دفعہ وہ مالک کچھ نہیں دیتا او رپاس ایک بڑھیا کی جھونپڑی ہوتی ہے وہ بالکل غریب اور کنگال ہوتی ہے لیکن اس کے دل میں رحم ہوتا ہے۔وہ اس فقیر کو دیکھتی ہے تو اسے آواز دیتی ہے کہ اِدھر آؤ اور جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو وہ کوئی بچی کھچی روٹی یا کچھ آٹا اس کی جھولی میں ڈال دیتی ہے۔لیکن عدمِ علم کی وجہ سے وہ پہلے اس سے نہیں مانگتا۔وہ پہلے ایسے شخص سے ہی مانگتا ہے جس کے متعلق وہ سمجھتا ہے کہ وہ دے سکتا ہے۔گویا وہ اندھیرے میں ایک تیر چلاتا ہے اور بظاہر یہ سمجھتا ہے کہ یہاں سے کچھ ملے گا مگر یہ کہ ضرور ملے گا اس کا اسے علم نہیں ہوتا۔لیکن اگر وہ جانتا ہو کہ مجھے یہاں سے اکثر کچھ نہ کچھ ملا کرتا ہے تو جب وہ آواز دے گا اسے یقین، وثوق اور اعتماد بھی ہو گا اور وہ سمجھے گا کہ میں خالی ہاتھ واپس نہیں جاؤں گا۔فَصَلِّ لِرَبِّکَ میں اللہ تعالیٰ اعتماد پیدا کرنے کے لئے فرماتا ہے کہ تُو اپنے ’’رب‘‘کی عبادت کر یا اپنے ’’رب‘‘کے حضور دعا کر۔یہاں رب کا لفظ استعمال کر کے بتایا کہ وہ خدا ایسا ہے جو تمہاری تربیت کرتا ہے۔تمہاری ربوبیت کرتا ہے اور تمہیں ترقی دیتا ہے اس طرح رب کا لفظ استعمال کر کے دعا کرنے والے کے دل میں یہ احساس پیدا کیا کہ جس خدا سے تم مانگنے لگے ہو وہ نہ صرف صاحب ِ مقدرت ہے اور تم جو کچھ مانگو وہ تمہیں دے سکتا ہے۔بلکہ وہ سابق زمانہ سے تمہارا مربی و محسن چلا آیا ہے اور ہمیشہ اپنے بندوں کو دیا کرتا ہے۔مگر یہاں پھر سوال پیدا ہوتا تھا کہ سخی بھی تو سب کو نہیں دیتے صرف کسی کسی کو دیتے ہیں۔ان کے ہمسایہ میں کئی غریب ہوتے ہیں مگر ان میں سے کوئی کوئی ہی ہوتا ہے جس کی ضروریات کا وہ خیال رکھتے ہیں کیا خدا تعالیٰ بھی ایسا تو نہیں کہ وہ کسی کا خیال رکھے اور کسی کا نہ رکھے۔اس شبہ کے ازالہ کے لئے فرمایا۔لِرَبِّکَ۔وہ نہ صرف سخی ہے اور خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا بلکہ اے مخاطب اس کا تمہارے ساتھ خصوصیت کے ساتھ تعلق ہے۔اس لئے تم یقین رکھو کہ تمہاری دعا ردّ نہیں ہو گی کیونکہ وہ صاحب ِ مقدرت بھی ہے صاحب سخاوت بھی ہے اور پھر اسے خاص طور پر تمہارا خیال بھی ہے۔اس کے بعد فرمایا وَانْحَرْ۔کوثر کے نتیجہ میں جہاں تُو نماز پڑھ اور دعائیں کر وہاں تو نحر بھی کر۔یعنی بڑی بڑی قربانیاںکر۔میں اوپر بتا چکا ہوں کہ کوثر کے تین معنے کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک معنے یہ ہیں کہ کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے۔ان معنوں کے ساتھ فَصَلِّ لِرَبِّکَ کا کوئی جوڑ نظر نہیں آتا۔یہ کہنا کہ تجھے جنت میں نہر ملے گی اس لئے تُو نماز پڑھ اور بڑی بڑی قربانیاں دے یہ ایک ایسا مفہوم ہے جو مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے آپ سے کوثر