تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 179

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ کے یہ معنے ہوئے کہ تُو اپنے رب کے حضور نماز پڑھ اور اوّل وقت میں پڑھ۔(۲)دوسرے معنے نَـحَرَ کے یہ ہیں کہ وَضَعَ یَـمِیْنَہُ عَلٰی شِـمَالِہٖ۔اس نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا۔یعنی نماز پڑھتے ہوئے جس طرح ہم ہاتھ باندھتے ہیں اس کو نحر کہتے ہیں۔چاہے وہابیوں کی طرح اوپر باندھے جائیں یا حنفیوں کی طرح نیچے باندھے جائیں۔بہر حال دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے والا نحر کرنے والا کہلائے گا اور اس آیت کے یہ معنے کئے جائیں گے کہ تُو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر نماز پڑھ۔(۳)تیسرے معنے نحر کے گردن سے نیچے اور سینہ سے اوپر کے حصہ کے ہیں اور وَانْحَرْکے معنے ہوں گے تو سینہ کے اوپر کے حصہ کو چھویا اس کے پاس ہاتھ رکھ۔بعض محدثین اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ جو طریقہ محدثین میں نماز کے وقت ہاتھ رکھنے کا ہے وہی درست ہے مگر اس قسم کے استدلال بہت بودے اور کچے ہوتے ہیں۔اگر چہ ہم لوگ بھی اہل حدیث کی طرح نماز کے وقت سینہ پر ہاتھ رکھتے ہیں مگر اس وجہ سے کہ اکثر احادیث سے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر تعامل سے یہ بات ثابت ہے (ابوداؤد کتاب الصلٰوۃ باب وضع الیـمنٰی علی الیـسـرٰی فی الصلٰوۃ) اس لئے نہیں کہ اس آیت سے یہ مضمون نکلتا ہے۔اس قسم کے استدلال ایک سچے امر کو تقویت نہیں پہنچاتے بلکہ مضحکہ خیز بنا دیتے ہیں۔(۴)ایک معنے نحر کے یہ ہیں کہ اِنْتَصَبَ بِنَحْرِہٖ اِزَاءَ الْقِبْلَۃِ۔وہ قبلہ رُو ہو کر کھڑا ہو گیا۔(۵)پانچویں معنے اس لفظ کے یہ ہیں کہ اِنْتَصَبَ وَ نَـھَدَ صَدْرَہٗ۔وہ سیدھا کھڑا ہو گیا اور اس نے اپنے سینہ کو تان لیا۔یعنی اکڑ کر کھڑا ہو گیا اور ادھر اُدھر نہ دیکھا۔ان مختلف معنوں کے رُو سے فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ کے معنے ہوں گے تو اپنے رب کے لئے جو ہمیشہ احسان کرتا ہے نماز پڑھ۔اوّل وقت میں پڑھ۔ہاتھ باندھ کر پڑھ۔قبلہ رو ہو کر پڑھ اور ادھر اُدھر نہ دیکھ یا تُو اپنے رب سے یقین، وثوق اور اعتماد کے ساتھ دعائیں کر۔اوپر کے معنوں کے علاوہ نحر کے معنے اونٹ کی قربانی کے بھی ہیں۔یہ معنے اس لئے ہیں کہ اونٹ کو ذبح کرنے سے پہلے اس کے منحر یعنی زیرین گردن میں نیزہ مارتے ہیں جس سے اس کی شاہ رگ سے یک دم خون نکلتا ہے اور اونٹ بے ہوش ہو کر گر پڑتا ہے۔اس کے بعد اسے ذبح کر لیا جاتا ہے اور چونکہ یہ لفظ اونٹ یا اونٹ جیسے بڑے جانوروں کی قربانی کے لئے بولا جاتا ہے۔مثلاً زیبرا ہے اس کا بھی اونٹ پر قیاس کر کے نحر کیا جائے گا۔لیکن بکرے اور گائے اور اسی قسم کے چھوٹے جانوروں کی قربانی کے لئے نحر کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا۔اس لئے اِنْـحَرْ کے معنے یہ ہوں گے کہ تُو بڑی قربانی کر۔تفسیر۔فَصَلِّ لِرَبِّکَ میں اس طرح اشارہ کیا گیا ہے کہ نماز یعنی اظہار ِ اطاعت یا دعا یعنی طلب حاجات