تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 181

سے بھی بڑی بڑی چیزوں کا وعدہ کیا مگر وہاں فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ کا حکم نہیں دیا۔مثلاً لقاء الٰہی ہے۔اس کا آپؐسے وعدہ کیا گیا لیکن وہاں نماز اور قربانی کا ذکر نہیں حالانکہ کجا نہر اور کجا محبوب کی ملاقات۔اگر ایک چھوٹے انعام پر نمازوں اور قربانیوں کا حکم دیا گیا تھا تو چاہیے تھا کہ بڑے انعام پر اس سے بھی زیادہ زور کے ساتھ نمازوں اور قربانیوں کا حکم دیا جاتا۔مگر ایسا نہیں کیا گیا۔پس معلوم ہوا کہ نہر والے معنوں کے ساتھ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ کا کوئی جوڑ نہیں۔لیکن اگر یہ معنے کئے جائیں کہ تجھے خیر کثیر ملے گی تو پھر اس آیت کا جوڑ باقی سورۃ سے نظر آجاتا ہے۔کیونکہ جب بھی اللہ تعالیٰ کسی کو اپنے انعامات سے حصہ دیتا ہے تو اس کے بہت سے حاسدپیدا ہو جاتے ہیں۔ملک میں ہزاروں ہزار علماء ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم بڑے تعلیم یافتہ ہیں۔ہم فلاں فلاں کالج کے پرنسپل ہیں۔فلاں فلاں کالج کے پروفیسر ہیں۔فلاں فلاں جامع مسجد کے امام ہیں۔لیکن ایک گمنام شخص جس کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہوتی وہ ان کے سامنے یہ دعویٰ پیش کر دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے تم سب میری بیعت کرو۔یہ سن کر ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے کہ ہم اس کی بیعت کیوں کریں۔اِسے ہمارے مقابلہ میں کون سی پوزیشن حاصل ہے۔گویا نبوت کے دعویٰ کے ساتھ ہی دنیا کے دوسرے لوگوں میں حسد پیدا ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے ہمارے رسول جو انعامات تم کو ملے ہیں یا آئندہ ملیں گے ایسے انعامات پر لوگ حسد کیا کرتے ہیں اور مخالفتیں کرتے ہیں۔ان مخالفتوں کو دیکھتے ہوئے ابھی سے تیار ہو جاؤ اور دعائیں کرو۔نماز پڑھو اور قربانیاں کرو تاکہ وہ بلائیں ٹل جائیں اوروہ آفات مٹ جائیں۔چنانچہ کوثر کے پہلے معنوں کے رُو سے ہم دیکھتے ہیں کہ جوں جوں قرآن کریم نازل ہوتا گیا دشمن کا بُغض بھی بڑھتا گیا۔مگر اس کے مقابل پر مسلمانوں میں بھی دعاؤں اور قربانیوں کا زور بڑھتا گیا اور انہوں نے اسلام کی اشاعت کے لئے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو اس طرح قربان کیا کہ اس کی مثال دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔ایک دفعہ بعض لوگوں نے صحابہ ؓسے پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سب سے زیادہ دلیر اور بہادر کون شخص تھا۔جس طرح آج کل شیعہ سُنی کا سوال ہے اسی طرح اس زمانہ میں بھی جس کسی کے ساتھ تعلق ہوتا تھا لوگ اس کی تعریفیں کیا کرتے تھے۔جب صحابہ ؓ سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم میں سے سب سے بہادر وہ شخص سمجھا جاتا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوتا تھا(تفسیر الخازن قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ۔۔۔۔۔) یہ نکتہ ایک جنگی آدمی ہی سمجھ سکتا ہے دوسرا آدمی نہیں۔بات یہ ہے کہ جو شخص ملک اور قوم کی روح رواں ہو دشمن چاہتا ہے کہ اسے مار ڈالے تاکہ اس کی موت کے ساتھ تمام جھگڑا ختم ہوجائے اس لئے جس طرف بھی ایسا آدمی کھڑا ہو گا دشمن اس طرف پورے زور کے ساتھ حملہ کرے گا اور ایسی جگہ پر