تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 159

تھا کہ اب کیا بنے گا۔میں نے خیال کیا تھا کہ ایک پیالہ دودھ کا ہے میں خوب پیٹ بھر کر پی لوں گا۔مگر اب تو چھ اور بھی حاجت مند مل گئے ہیںدودو گھونٹ ہی حصہ میں آئیں گے خیر ہم آپؐکے پاس چلے گئے۔مگر میں نے خیال کیا کہ میں چونکہ بہت بھوکا ہوں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شاید مجھے پہلے پیالہ دیں گے۔مگر آپؐنے پیالہ اٹھایا اور ان چھ میں سے ایک کو دے دیا جس سے میری رہی سہی امید بھی جاتی رہی جب وہ آدمی پی چکا تو آپؐنے فرمایا کیا پیٹ بھر گیا ہے۔اور پیو۔اس نے پھر پیا اور کہا حضور اب تو پیٹ بھر گیا ہے میں اور نہیں پی سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ اس سے لے کر دوسرے شخص کو دےدیا پھر تیسرے کو، پھر چوتھے کومیں نے خیال کیا اب تو میری خیر نہیں۔میرے لئے کیابچے گا۔مگر ان چھ آدمیوں کے پی لینے کے بعد بھی جب دودھ کا پیالہ میرے پاس پہنچا تو میں نے دیکھا کہ وہ ویسا ہی بھر اہوا ہے۔کچھ تو ویسے ہی وہ پیالہ بڑا تھا اور پھر انبیاء کی چیزوں میں خدا تعالیٰ بر کت بھی دے دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ابو ہریرہؓ اب تم پیو۔میں نے دودھ پیا اور میرا پیٹ خوب بھر گیا۔جب میں پی چکا تو آپؐنے فرمایا۔ابو ہریرہ ؓ پھر پیو۔میں نے پھر پیا۔آپؐنے فرمایا۔ابو ہریرہؓ پھر پیو۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اب تو میری انگلیوں میں سے بھی دودھ نکلنے لگا ہے۔پھر آپ نے ہم ساتوں آدمیوں کا جوٹھا خود پیا ( بخاری کتاب الرقاق باب کیف کان عیش النبی و اصحابہ۔۔۔۔۔) اس واقعہ سے بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنے صحابہؓ کی دلجوئی اور خدمت کا کتنا احساس تھا۔(۳۰) شرک کے خلاف آپؐکے دل میں جو جذبہ نفرت پایا جاتا تھا اس کا اس امر سے پتہ چلتا ہے کہ جب آپؐکی وفات کا وقت قریب آیا۔تو حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐبے چینی اور اضطراب کے ساتھ بار بار کروٹیں بدلتے اور فرماتے خدا تعالیٰ لعنت کرے یہود اور نصاریٰ پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہیں بنا لیا ہے ( مسلم کتاب المساجد باب النھی عن بناءِ الـمسجد علی القبور) ظاہر ہے کہ آپؐکی مراد صرف یہود اور نصاریٰ کو مطعون کرنا نہیں تھا بلکہ اپنی امت کو توجہ دلا نا تھا کہ مجھے یہ فعل اتنا ناپسند ہے کہ میں مرتے وقت بھی اس پر لعنت بھیج رہا ہوں۔یہ نہ ہو کہ تم میری قبر کو بھی ان کی طرح عبادت گاہ بنا لو۔حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کرب کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں میں اگر چہ ہزاروں قسم کی خرابیاں پیدا ہو گئیں۔مگر خدا تعالیٰ نے آپ کے مزار مبارک کو ہمیشہ کے لئے شرک سے بچایا۔مسلمان عقائد میں بے شک شرک کرنے لگ گئے ہیں۔چنانچہ بعض مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب مانتے ہیں اور بعض آپ کو مُردوں کا زندہ کرنے والا تسلیم کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے آپؐکے مقبرہ کو شرک سے ہمیشہ محفوظ رکھاہے۔