تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 160

اوپر جو واقعات بیان کئے جا چکے ہیں ان کو اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر انفرادی طور پر بھی دیکھا جائے تب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسرے انبیاء پر فضیلت اور برتری میں کوئی شبہ نہیں رہتا اور انسان کو اس حقیقت پر ایمان لانا پڑتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فی الحقیقت افضل النبیین تھے۔بلکہ میں کہتا ہوں اگر ان امور کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تب بھی ایک چیز تو یقینی طور پر ایسی ہے جو دنیا کے کسی اور نبی کو میسر نہیں آئی اور وہ یہ ہے کہ سوائے آپؐکے کوئی اور وجود تاریخی ہے ہی نہیں۔آپؐکی ساری زندگی ایک کھلے ورق کی طرح دنیا کے سامنے ہے۔پیدائش سے لے کر وفات تک آپؐکی ساری زندگی کا ایک سیکنڈ بھی ایسا نہیں جو دنیا کے سامنے نہ آیا ہو۔باقی انبیاء کی زندگی اس طرح تاریخ میں کہاں محفوظ ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب میں آپ کے گھر کے حالات تو نہیں دیئے گئے کہ آپ کا بیوی کے ساتھ کیسا سلوک تھا، بچوں کے ساتھ کیسا سلوک تھا، ہمسایوں کے ساتھ کیسا معاملہ تھا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوکنا اور آپ کا پیشاب کرنا اور پاخانہ کرنا تک بھی نہیں چھوڑا گیا۔غرض آپ کا کوئی فعل ایسا نہیں خواہ وہ اندرونی ہو یا بیرونی جو چھپا ہوا ہو۔آپ کی بیویوں نے حدیثیں بیان کی ہیں جن میں انہوں نے بتایا ہے کہ آپ رات کو کیسے اٹھتے تھے، آپ تہجد کیسے پڑھتے تھے، آپ کیسے سوتے تھے، کیسے کھاتے تھے، پھر آپ اپنی بیویوں سے کیسے پیار کرتے تھے۔بلکہ انہوں نے یہاں تک بیان کیا ہے کہ آپ کے بیویوں کے ساتھ جنسی تعلقات کس رنگ کے تھے۔نہاتے تھے تو آپ کس طرح نہاتے تھے۔گھر کے متعلق آپ کا کیا رویہ تھا۔بچوں کے متعلق آپ کا کیا رویہ تھا۔آپ کا کپڑا کیسا تھا، پہننا کیسا تھا، کھانا کیسا تھا، بستر کیسا تھا۔غرض آپ کی زندگی کا کوئی عمل بھی ایسا نہیں اور نہ کوئی لمحہ ایسا ہے جو ہمارے سامنے نہ ہو۔دنیا میں اور کون سا نبی ایسا پایا جاتا ہے جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس طرح لوگوں کے سامنے ہو۔ایسا کوئی نبی نہیں پایا جاتا۔کسی نبی کے موٹے موٹے واقعات لے لینے سے تو اس کی زندگی پاکیزہ ثابت نہیں ہوتی۔پاکیزہ زندگی اسی وقت ثابت ہو سکتی ہے جب کسی کی ساری زندگی سامنے ہو۔اور آپ کے سوا کوئی نبی ایسا نہیں جس کی ساری زندگی ہمارے سامنے ہو۔گویا آپ شیشہ کے ایک مکان میں سے گذر رہے تھے اور ساری دنیا آپ کی طرف جھانک رہی تھی۔دو چار گھنٹے تو کوئی ریا سے بھی کام کر سکتا ہے مگر ۲۴ گھنٹے کوئی ریا سے کام نہیں کر سکتا۔ایک دن بھی کوئی ریا سے گذار سکتا ہے۔مگر یہاں تومہینوں اور سالوں کا سوال ہے جب تک بھی آپ زندہ رہے آپ کی ساری زندگی جس طرح گذری وہ ہمارے سامنے ہے۔گھر میں آپ کی بیویاں آپ کی جاسوس تھیں اور وہ بتا دیتی تھیں کہ آپ کس طرح نہاتے تھے،