تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 145

ہوئے تھے۔آپ خود فرماتے ہیں کہ یہ مت سمجھو کہ میں تورات یا دوسرے نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔منسوخ کرنے نہیں بلکہ پور اکرنے آیا ہوں(متی باب ۵ آیت ۱۷) اور جب وہ تورات کی تعلیم کے تابع تھے اور تورات کا ایک شوشہ بھی بدل نہیں سکتے تھے تو تورات میںتوحید کا ہی ذکر ہے تثلیث کا ذکر نہیں۔بہر حال ہر نبی دنیامیں توحید کے قیام کے لئے مبعوث ہو تا ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس رنگ میں توحید کو قائم کیا ہے اور جو جذبہ غیرت اللہ تعالیٰ کی توحید کے متعلق آپ کے اندر پایا جاتا تھا اس کی مثال کسی اور نبی میںہمیں نظر نہیں آتی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تو توحید کو اس رنگ میں پیش کیا کہ اس سے شرک کا شبہ پیدا ہو گیا۔یہی وجہ ہے کہ عیسائی رفتہ رفتہ مشرک ہو گئے اور وہ توحید کو کلی طور پر چھوڑ بیٹھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں میں بھی کچھ شرک پیدا ہو گیا ہے۔لیکن مسلمانوں میں جو شرک پایا جاتاہے وہ جُہّال کا شر ک ہے۔خواہ یہ جاہل طبقہ عوام الناس میں سے ہو یا علماء کہلانے والوں میں سے ہومگر عیسائیت میں جو شرک پایا جاتا ہے وہ ان کے چوٹی کے علماء میں بھی پایا جاتا ہے۔پھر مسلمانوں کے شرک اور اس شرک میں ایک اور فرق یہ ہے کہ مسلمانوں میں شرک پیدا ہو جانے کے باوجود اس کے مخالف علماء پائے جاتے رہے ہیں۔مثلاً سید عبدالقادر صاحب جیلانیؒ ہیں۔ان کی کتابوں میں تو حید ہی توحید بھری ہو ئی ہے۔اب اگر ان کے معتقد شرک کرنے لگ جائیں تو کوئی دھوکا نہیں لگ سکتا۔اگر کوئی کہے گا کہ میں جیلانی صاحبؒکا معتقد ہوں تو ہم آپ کی کتابیں نکال کر اس کے سامنے رکھ دیں گے کہ دیکھو آپ تو بڑے مؤحد تھے تمہیں بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے گویا مسلمانوں کی غلطیوں کو ظاہرکرنے کے مواقع موجود ہیں مگر عیسائیت کو لو تو ان کے بڑے سے بڑے عالم حتی کہ پوپ میں بھی شرک موجود ہے اور اس پوپ سے دس درجے پہلے جو پوپ تھا اس میں بھی شرک پا یا جا تا تھا۔یہ جُہّال کا شرک نہیں بلکہ چوٹی کے علماء میں بھی یہ شرک پایا جاتا ہے۔اس وجہ سے مسلمانوں پر ان کی غلطی کو واضح کرنا آسان بات ہے مگر عیسائیوں پر ان کی غلطی کو ظاہر کرنا آسان بات نہیں۔بہرحال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس غیرت کا جو آپ کو توحید کے متعلق تھی اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے نازک سے نازک مواقع پر بھی توحید کا سبق دیا۔جنگ احد کے مو قعہ پر مسلمانوں کو خدا تعالیٰ نے فتح دی اور کفار بھاگ گئے۔خالدؓ بن ولید اور عمروؓ بن عاص جو اسلام کے عظیم الشان جرنیل گذرے ہیں ابھی اسلام نہیں لائے تھے اور اس جنگ میں کفار کی طرف سے شامل تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کے ایک گروہ کو ایک درہ میں کھڑا کیا اور انہیں تاکیدی حکم دیا کہ تم نے اس جگہ سے نہیں ہلنا خواہ ہمیںفتح ہو یا شکست۔ہم مارے جائیں یا زندہ رہیں تم نے اس جگہ کو نہیں چھوڑنامسلمانوں میں جہاد کا جوش تھا اور اب بھی ہے۔جب اسلام کو فتح حاصل ہوئی تو جو