تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 134
کو پرورش میں لے لیا۔پھر ان کے فوت ہو جانے کے بعد آپ اپنے چچا کے پاس رہے لیکن کہیں سے بھی یہ ثبوت نہیں ملتا کہ آپ نے کبھی کسی سے سوال کیا ہو۔ابو طالب کو اپنے باپ کی وصیت اور آپ کی ذاتی نیکی کی وجہ سے آپ سے بے حد محبت تھی اور وہ آپ کو اپنے بچوں سے زیادہ عزیز رکھتے تھے آپ کی عمر اس وقت آٹھ نو سال کی تھی۔بعض دفعہ جب ابو طالب گھر آتے اور دیکھتے کہ ان کی بیوی اپنے بچوں میں کوئی چیز بانٹ رہی ہے اور آپ ایک طرف کوہ ِوقار بنے بیٹھے ہیں تو ان کی محبت جوش میں آجاتی اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی گود میں اٹھا لیتے اور اپنی بیوی سے کہتے میرے بچے کو تم نے نہیں دیا میرے بچے کو تم نے نہیں دیا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے تھے یہ تو آپ کی بچپن کی حالت کا نقشہ ہے آپ جب بڑے ہوئے تو یہ آپ کے استغنا کا ہی نتیجہ تھا کہ سارے ملک نے آپ کا نام امین رکھا ہو اتھا یعنی لالچ آپ میں با لکل نہیں اور یہ کہ آپ پورے طور پر دوسرے کی امانت اس کے سپرد کر دیتے ہیں آپ کا نام صدوق بھی رکھا گیا تھا( بـخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ الشعراء والسیرۃ النبویۃ لابن ھشام حدیث بنیان الکعبۃ) یعنی آپ راست باز بھی ہیں اور یہ ثبوت ہے آپ کے تزکیہ یافتہ ہو نے کا جو آپؐکی زندگی میں نظر آتا ہے۔(۳)پھر آپ کے پاکیزہ اخلاق کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ آپ نے شادی کی تو ایسی عورت سے جس کی عمر چالیس سال کی تھی اور ایسی بھر پور جوانی میں کی جب کہ آپ پچیس سال کے تھے اور پھر اس تعلق کو نہایت خوبی کے ساتھ نبھا یا۔دشمن کہہ سکتا ہے کہ آپ نے دولت کے لالچ سے ایسا کیا مگر واقعات بتاتے ہیں کہ دولت کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔حضرت خدیجہ ؓ نے محض آپؐکی نیکی اور دیانت دیکھ کر آپ سے شادی کی۔در حقیقت اس زمانہ میں یہ دستور تھا کہ تجارت کا قافلہ جب شام کو جاتا تو امراء اپنے نمائندے اس میں بھیجتے تھے جو ان کی طرف سے تجارت کیا کرتے تھے۔حضرت خدیجہ ؓ چونکہ ایک مالدار شخص کی بیوہ تھیں اور خود بھی مالدار تھیں وہ بھی اس قافلہ میں اپنے آدمی بھجوایا کرتی تھیں۔جب انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور شہرت سنی تو آپ کو اپنی طرف سے نمائندہ مقرر کر کے تجارت کے لئے بھیج دیا۔اس تجارت میں حضرت خدیجہ ؓ کو اتنانفع ہو اکہ اس سے قبل اتنا نفع کبھی نہیں ہو اتھا۔انہوں نے آ پ کی واپسی پر اپنے غلاموں سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ یہ اس شخص کی برکت ہے باقی لوگ جاتے ہیں تو نفع والا سودا دیکھ کر اپنی تجارت کر لیتے ہیں لیکن انہوں نے اپنا کام نہیں کیا جہاں نفع کی صورت ہوتی وہاں آپ کا مال لگا دیتے اور پھر پہلے تو ہم کھا پی بھی لیتے تھے اس دفعہ انہوں نے ہمیں ناجائز طور پر کھانے بھی نہیں دیا اور خود بھی نہیں کھایا۔یہ کہتے تھے کہ مال سب مالک کا ہے اور جتنا خرچ تمہارے لئے