تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 135

مقررہے اس سے زیادہ میں نہیں دوں گا۔اس کا قدرتی طور پر یہ نتیجہ ہو اکہ نفع زیادہ آیا ہے اس چیز کا حضرت خدیجہ ؓ کے دل پر خاص طور پر اثر ہوا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں اس نوجوان سے شادی کر لوں۔آپ نے اپنی سہیلیوں سے مشورہ کیا انہوں نے بھی کہا کہ تعریف تو اس کی بہت سنی ہے آپ شادی کر لیں تو کوئی حرج نہیں۔اس کے بعد آپ نے اپنی ایک سہیلی ابو طالب کے پاس بھیجی اس نے آپ سے جا کر کہا کہ اگر خدیجہؓ کے ساتھ آپ کے بھتیجے کی شادی ہوجائے تو کیا آپ راضی ہیں۔ابو طالب نے کہا کہ خدیجہ ؓ سے میرے بھتیجے کی شادی ہو جائے یہ ناممکن بات ہے وہ مال دار عورت ہے اور میرے بھتیجے کے پاس کچھ بھی نہیں بھلا اس سے خدیجہ ؓ کی شادی کیسے ہو سکتی ہے؟ خدیجہ ؓ کی سہیلی نے کہا اگر شادی ہوجائے تو پھر؟ابو طالب نے کہا اگر ہوجائے تو بڑی اچھی بات ہے پھر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س گئی اور کہا آپ کی اگر خدیجہ ؓ سے شادی ہو جائے تو کیا آپ راضی ہیں؟ آپ نے فرمایا وہ تو مال دار عورت ہے اور میں ایک غریب آدمی ہوں میرا اور اس کا کیا جوڑ ہے۔حضرت خدیجہ ؓ کی سہیلی نے کہا اگر وہ خود شادی کی خواہش کرے تو کیا آپ اس سے شادی کرنے کے لئے تیار ہیں؟آپ نے فرمایا اگر اسے خود خواہش ہو تو مجھے منظور ہے۔چنانچہ اس کے بعد رشتہ داروں میں گفتگو ہوئی اور آپ کا نکاح ہو گیا گویا یہ نکاح محض آپ کی نیکی کا نتیجہ تھا اس لئے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ نے مال کی وجہ سے خدیجہ ؓ سے شادی کر لی تھی۔پھر باوجودیکہ آپ کی عمر اور حضرت خدیجہ ؓ کی عمر میں پندرہ سال کا فرق تھا آپ پچیس سال کے تھے اور حضرت خدیجہ ؓ چالیس سال کی اورباوجودیکہ عورت قریباً پچاس سال کے بعد شادی کی عمر سے نکل جاتی ہے یعنی صرف دس سال کے بعد آپ پینتیس سال کے ہو گئے اور حضرت خدیجہ ؓ پچاس سال کی ہو گئیں جو ادھیڑ عمر ہوتی ہے لیکن پھر بھی آپ نے ایسی غیر معمولی وفا کا ثبوت دیاا ور اس تعلق کو ایسی خوبی سے نبھا یا کہ دنیا کے پردے پر بہت کم لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو ایسی وفا کرتے ہیں۔حضرت خدیجہؓ نے ہجرت سے اڑھائی تین سال قبل وفات پائی ہے گویا حضرت خدیجہ ؓ کی عمر وفات کے وقت ۶۵ سال کی تھی اور اس عمر میں عورت با لکل بڑھیاہو جاتی ہے اور اس میں کوئی جسمانی دلکشی باقی نہیں رہتی کہ اس کا خاوند اسے یاد کرے۔پھر اس کے بعد آپ کی کئی شادیاں بھی ہوئیں اور جوان لڑکیوں سے ہوئیں ان میں سے بعض ایسی بھی تھیں جو اپنے گرد و پیش میں حسن کا شہرہ رکھتی تھیں مگر آپ کی یہ حالت تھی کہ آپ ہمیشہ انتہائی محبت اور پیار کے ساتھ حضرت خدیجہ ؓ کا نام لیتے اور فرماتے خدیجہؓ کی یہ بات ہے خدیجہ ؓ کی وہ بات ہے( السیرۃ النبویۃ لابن ھشام حدیث تزویـج رسول اللہ خدیـجۃ رضی اللہ عنھا والسیرۃ الـحلبیۃ باب ذکر وفاۃ عـمہٖ ابی طالب و زوجتِہِ خدیـجۃ رضی اللہ عنھا) حضرت عائشہؓ جوان بھی تھیں، خوبرو بھی