تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 133
صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں میں ہی پا یا جاتا ہے۔پھر تزکیہ کے لئے ضروری ہے کہ تزکیہ کرنے والا خود مزکّٰی ہو لکھا پڑھا آدمی ہی دوسرے کو پڑھا سکتا ہے اس لئے جو شخص دوسرے کا تزکیہ کرتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی تزکیہ یافتہ ہو۔اس لحاظ سے بھی جب ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تزکیہ کے بارہ میں بھی کوثر عطا فرمایا ہے بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور مشیت کے ماتحت آپ کو ہر حالت میں سے گذارا تاکہ آپ کے مزکّٰی ہونے کا ثبوت اہل دنیا کو مل سکے۔(۱)اس تزکیہ کا ایک ثبوت تو آپ کی عمر کے ابتدائی زمانہ میں ہی نظر آتا ہے اوروہ اس طرح کہ آپ پچیس سال تک کنوارے رہے اور اس عرصہ میں آپ نے ایسی غیر معمولی عفت کا ثبوت دیاکہ دشمن بھی آپ پر یہ الزام نہیں لگا سکا کہ آپ کا کسی عورت کے ساتھ نا جائز تعلق تو کیا معمولی خلا ملا ہی ہو۔یا آپ نے کسی عورت سے ایسی باتیں کیں ہوں جن سے آپ کی بے تکلفی ثابت ہو آپ نے عمر کا مضبوط ترین حصہ غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں گذار دیا مگر آپ پر کوئی الزام نہیں آیا اس کے مقابلہ میں اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا جائے جنہیں بعض کے نزدیک خدا تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور بعض کے نزدیک آپ صلیب پر فوت ہو کر دوبارہ زندہ ہوئے اور آسمان کی طرف اٹھائے گئے تو ان کے متعلق خود انجیل کہتی ہے کہ ان کے اردگرد ہمیشہ عورتیں رہتی تھیں وہ آپ کو مالش کرتی تھیں آپ کا سر جھستی تھیں اور آپ کو خوشبو ملاکرتی تھیں(لوقاباب ۷ آیت ۳۸) اب کجا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پچیس سالہ زندگی کہ اس پر کوئی دشمن بھی الزام نہیں لگا سکا اور کجا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی جس کے متعلق خود انجیل ایسی باتیں کہتی ہے جو آپ کی شان کو بٹہ لگانے والی ہیں۔اس میںکوئی شبہ نہیں کہ ہم اعتقاداً یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی بھی پاک تھی مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی آپ سے زیادہ پاک تھی اور صرف پاک ہونا اور چیز ہے اور زیادہ پاک ہونا اور چیز ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پاکیزگی حاصل تھی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں کوثر عطا ہو اتھا یعنی آپ کو پاکیزگی کی انتہا ملی تھی اور ان دونوں میں بڑا بھاری فرق ہے۔(۲)پھر آپ غریب تھے لیکن غربت کے باوجود آپ نے غیر معمولی استغنا کا ثبوت دیا آپ اس خاندان میں سے تھے جو خانہ کعبہ کا محافظ تھا مگر کوئی شخص یہ ثابت نہیں کر سکتاکہ آپ نے کسی سے کبھی کوئی چیز مانگی ہو یا اس کے مانگنے یا حاصل کرنے کی خواہش ہی کی ہو۔آپ کے والد جب وفات پا گئے تو پہلے آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ