تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 120

سکتاتھا کہ آپؐاسے اپنے مذہب پر چھوڑ دیں گے اور کسی قسم کا جبر نہیں کریں گے۔آپؐکا جواب سنتے ہی اس کا دل صاف ہو گیا۔اس نے کہا یا رسول اللہ میں سچے دل سے یہ سمجھتا ہوں کہ یہ معافی اور نیک سلوک ایک نبی کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا اس لئے میں آپؐپر ایمان لاتا ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عکرمہ ؓ کے ایمان لانے سے بہت خوشی ہوئی اور آپؐنے فرمایا۔عکرمہ تم جو کچھ مانگنا چاہتے ہو مانگ لو آپؐکا مطلب یہ تھا کہ تمہیں اپنی جائیداد کو بچانے کی خواہش ہو تو بتا دو تمہاری خواہش قبول کر لی جائے گی۔مگر کجا وہ عکرمہ ؓ جو آپؐکا دشمن تھا اور کجا اس کی یہ حالت کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے دنیا کی حاجت نہیں۔میں آپؐکی بہت مخالفت کر چکا ہوں میری صرف اتنی ہی خواہش ہے کہ آپؐخدا تعالیٰ سے یہ دعا فرمائیں کہ وہ میری خطائیں معاف کر دے۔اس کے علاوہ مجھے اور کسی چیز کی حاجت نہیں(السیرۃ الحلبیۃ فتح مکۃ شـرفھا اللہ تعالٰی)۔یہ دوسرا شخص تھا جس کے مارے جانے کے متعلق حکم تھا۔تیسرا شخص شام کی طرف بھاگ گیا تھا اور وہاں دھکے کھا رہا تھا۔لوگوں نے اس سے کہا تو اپنے محسن کو چھوڑ کر کہاں بھاگا پھر تا ہے جا اور اس سے معافی مانگ۔اس نے کہا میں معافی کیا مانگوں میرے متعلق تو یہ حکم ہے کہ جہاں بھی پایا جاؤں مارا جاؤں۔انہوں نے کہا تم ذہین آدمی ہو بھیس بدل کر کسی نہ کسی طرح پہنچ جاؤ اور معافی مانگ لو۔وہ شاعر تھا اور بڑے شاعر کا بیٹا تھا۔وہ بھیس بدل کر آپؐکے دربار میںحاضر ہوا۔چونکہ وہ مہاجرین کا رشتہ دار تھا اس لئے انہوں نے پہچان لیا۔لیکن جنہوں نے بھی اسے دیکھا انہوں نے نگاہیں نیچی کر لیں۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔میں آپؐکی خدمت میں کچھ شعر لایا ہوں اجازت ہو تو سنادوں۔آپؐنے اجازت مر حمت فرمائی اور اس نے وہ اشعار پڑھے جو قصیدۂ بردہ کے نام سے مشہور ہیں۔عربوں کے عام دستور کے مطابق اپنی محبوبہ اور اونٹنی کا ذکر کرتے ہوئے اس نے گریز اختیار کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا۔پھر کہا لوگ مجھے کہتے تھے کہ اے ابن کلثوم تو اپنے آپ کو شیر کی غار میں ڈال رہا ہے تو گیا تو مارا جائے گا لیکن میں نے کہا جانے بھی دو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو معاف کرنے والے انسان ہیں۔جب اس نے یہ کہا تو انصارؓ سمجھ گئے کہ یہ شخص ان سات اشخاص میں سے ہے جن کے قتل کئے جانے کا حکم تھا۔سب نے اپنی تلواریں میانوں سے نکالیں مگر انتظار میں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب مدّ ِنظر تھا۔پھر اس نے چند اشعار کے بعد یہ شعر پڑھا۔کہ