تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 121
اِنَّ الرَّسُوْلَ لَسَیْفٌ یُسْتَضَاءُ بِہٖ مُھَنَّدٌ مِّنْ سُیُوْفِ اللہِ مَسْلُوْلٌ ( السیرۃ النبویۃ لابن ہشام امر کعب بن زہیر) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی تلوار ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور وہ تلوار اللہ تعالیٰ کی تلواروں سے ایک تلوار ہے جو ہندی نمونہ کی ہے اور سونتی ہوئی ہے،پھر اس نے قرآن کریم کی تعریف کی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اتار ی اور اس کے اوپر ڈال دی۔جس کے معنے یہ تھے کہ آپؐنے اسے معاف کر دیا۔اس پر صحابہ ؓ میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔غرض اتنی خونریزی اور ایذاء دہی کے بعد جس میں آپؐکی ایک صاحبزادی حاملہ ہونے کی حالت میں فوت ہوگئیں(الاستیعاب فی معرفۃ الاصـحاب زینب بنت رسول اللہ )۔آپؐکی پیاری بیوی حضرت خدیجہؓ فاقوں کی وجہ سے وفات پا گئیں آپؐکے چچا ابو طالب جو اگر چہ ایمان نہیں لائے تھے مگر آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت خدمت کی تھی وہ بھی فاقوںکی وجہ سے فوت ہو گئے(الـسیرۃ الـحلبیۃ باب ذکر وفاۃ عـمہ ابی طالب و زوجتہ خدیـجۃ رضی اللہ عنہا)۔آپؐکے چچا حضرت حمزہؓ کو شہید کیا گیا اور آپ کے ناک،کان کاٹ دیئے گئے اور پیٹ پھاڑ کر جگر نکال لیا گیا۔اسی طرح آپؐکو اور بھی بہت سی تکلیفیں دی گئیں۔صرف سات آدمی ایسے تھے جن کے متعلق آپ نے حکم صادر فرمایا تھا کہ وہ جہاں کہیں ملیں ان کو مار ڈالا جائے۔مگر ان میں سے بھی تین کی معافیاں تاریخ سے ثابت ہیں اور بعض دوسروں کا قتل تاریخ سے ثابت نہیں ہو تا۔یہ پاک نمونہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے سامنے پیش کیا یہی وہ نمونہ تھا جس نے صحابہ کے دلوں کو پاک کیا اور انہیں بھی دنیا کا ہادی اور راہنما بنا دیا۔پھر یہودیت کہتی ہے کہ تو یہودی سے سود نہ لے غیر یہودی سے سود لے سکتا ہے(استثناء باب ۲۳آیت ۱۹،۲۰) اسلام کہتا ہے کہ تو کسی سے بھی سود نہ لے۔نہ مسلم سے سود لے اور نہ کسی غیر مسلم سے سود لے۔اگر یہ بری چیز ہے تو پھر اپنوں اور غیروں کی تخصیص بالکل بے معنی بات ہے۔پس تزکیہ عمل جو اسلام نے کیا ہے کوئی دوسرا مذہب اس قسم کے تزکیہ کی مثال پیش نہیں کر سکتا۔پھر جذبات کا تزکیہ ہے۔اخلاق کی تعریف جو اسلام نے کی ہے وہ کسی اور مذہب نے نہیں کی۔اسلام نے یہ کہا ہے کہ بعض مخصوص اعمال کو برا کہنا غلطی ہے۔عمل اپنی ذات میں برا نہیں ہو تا بلکہ فطرتی قویٰ کا غلط استعمال اس کو برا بنا دیتا ہے اور اس کا صحیح استعمال اسے اچھا بنا دیتاہے۔مثلاً عیسائیت کہتی ہے کہ رہبانیت اختیار کرو۔حالانکہ واقعہ یہ