تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 119
اس نے حبشہ کی طرف بھاگ جانے کی کوشش کی اور ساحل سمندر پر چلا گیا۔اس کی بیوی کافی دیر سے دل سے مسلمان ہو چکی تھی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ میں تو کافی دیر سے مسلمان ہوں میرا خاوند آپ کا مقابلہ کرتا رہا ہے لیکن یا رسول اللہ وہ آپ کی مخالفت اسی لئے کرتا تھا کہ وہ سمجھتا تھا جوکچھ آپ کہتے ہیں وہ غلط ہے۔اگر وہ اسے درست سمجھتا تو لڑتا کیوں۔آپ رحیم وکریم ہیں اسے معاف کر دیں۔آپ نے حکم دیا ہے کہ وہ جہاں پایا جائے مارا جائے۔یا رسول اللہ وہ کسی اور ملک کو نکل جائے گا اور بر باد ہو جائے گا۔کیا یہ بہتر ہے کہ آپ کا ایک رشتہ دار تباہ و برباد ہو جائے یا یہ بہتر ہے کہ وہ ہدایت پا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ہدایت پا جائے تو بڑی خوشی کی بات ہے۔لیکن اگر وہ اپنے مذہب پر قائم رہے اور عرب میں رہے تب بھی اس کے مذہب میں کوئی دخل نہیں دیا جائے گا۔اس نے کہا یا رسول اللہ اگر اجازت ہو تو میں اسے لے آؤں۔مگر آ پ وعدہ فرمائیں کہ اسے معاف کر دیں گے۔آپ نے فرمایا اگر وہ واپس آجائے گا تو اسے معاف کردیا جائے گا۔وہ عکرمہؓ کی تلاش میں نکلی۔عکرمہؓ ابھی حبشہ جانے کے لئے کشتی میں سوار ہی ہو رہا تھا کہ وہ وہاں پہنچی۔اسے بیوی کے ساتھ بڑی محبت تھی جب دونوں آپس میں ملے تو بیوی نے کہا۔اے میرے خاوند تو اتناتو سوچ کہ کیا ایک غیر عرب کی غلامی سے یہ بہتر نہیں کہ تو ایک عرب بھائی کی غلامی اختیار کر لے۔پھر اتنا تو سوچ کہ تو نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی مخالفت کی کہ حد کر دی۔مگر آپؐنے فرمایا ہے کہ اگر عکرمہؓ واپس آجائے تو میں اسے معاف کر دوں گا اور اس کے مذہب میں بھی کوئی دخل نہیں دوں گا۔عکرمہؓ نے کہا کیا آپؐنے ایسا کہا ہے؟بیوی نے کہا آخر تم میرے خاوند ہو میں تمہاری دشمن تو نہیں ہوں۔آپؐنے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ اگر تم واپس آجاؤ تو وہ تمہیں معاف کر دیں گے۔عکرمہؓ نے کہا مجھے یقین نہیں آتا کہ وہ مجھے معاف کر دیں۔میں نے تو آپؐکی اتنی مخالفت کی ہے کہ اس کے بعد میری معافی کا کوئی امکان ہی نہیں رہتا۔بیوی نے کہا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ لے آئی ہوں۔اگر مجھ پر یقین نہ ہو تو خود چل کر پوچھ لو۔عکرمہؓ واپس لوٹا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میںحاضر ہوا۔چونکہ وہ ابھی آپ پر ایمان نہیں لایا تھا اس لئے آپؐکا نام ہی لیتا تھا۔چنانچہ اس نے آپؐکا نام لے کر کہا میری بیوی میرے پاس گئی تھی اور اس نے مجھے بتایا ہے کہ آپؐنے اس سے وعدہ کیا ہے کہ اگر میں واپس آگیا تو آپؐمجھے معاف کردیں گے اور میرے مذہب میں بھی دخل نہیں دیں گے کیا یہ ٹھیک ہے؟ آپؐنے فرمایا جو کچھ تمہاری بیوی نے تم سے کہاہے وہ درست ہے۔عکرمہؓ کے لئے یہ ایک غیر معمولی بات تھی۔وہ یہ خیال بھی نہیں کر