تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 118

ہو تا ہے کہ کسی جنگ میں بھی نہ سارے صحابہؓ لڑے اور نہ ہی سارے کفار لڑے۔اس وقت عرب کی دو تین لاکھ آبادی تھی مگر تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ لڑنے والے صرف چند ہزار افراد ہوتے تھے۔اگر صحابہؓ فتح کے بعد سب کفار کو ماردیتے تو عرب میں چند گنتی کے ہی مسلمان رہ جاتے اور اگر سارے کفار مر جاتے تو اسلام کہاں پھیلتا۔پس یہودیت کی تعلیم ناقص تعلیم ہے۔صرف اسلام کی تعلیم ہی ایسی ہے جو دنیامیں حقیقی امن قائم کرنے والی ہے۔پھر یہیں تک بس نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو اس وقت آپ نے سب دشمنوں کو معاف فرما دیا۔سوائے سات آدمیوں کے جنہوں نے شرافت اور اخلاق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انسانیت کے خلاف حرکات کی تھیں ان کے متعلق حکم تھا کہ وہ جہاں کہیں ملیں مار ڈالے جائیں( السیرۃ النبویۃ لابن ھشام من امر الرسول بقتلہٖ)۔مگر پھر ان سات کو بھی معاف کر دیا گیا۔انہی میں سے ایک ہندہ تھی جو ابو سفیان کی بیوی تھی۔جس نے حضرت حمزہؓ کے ناک اور کان کٹوائے تھے اور آپ کا کلیجہ نکلوا کر چبایا تھا(البدایۃ و النھایۃ سنۃ ۳ ھـ غزوۃ احد)۔چونکہ ہندہ نے وہ کام کیا تھا جو لڑائی کے ساتھ ضروری نہیں۔لڑائی ہوتی ہے تو لوگ ایک دوسرے کو مارتے ہی ہیں لیکن جو کام ہندہ نے کیا تھا وہ نہایت ظالمانہ اور انسانیت کے خلاف جرم تھا اس لئے آپؐ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے یوں بھی وہ لوگوں کو ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف اکساتی رہتی تھی فتح مکہ کے بعد آپ جب عورتوں سے بیعت لینے لگے تو چونکہ پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا اور تمام عورتیں منہ پر پردہ ڈالے بیعت کے لئے آتی تھیں ان کے ساتھ مل کر ہندہ بھی آگئی اور وہ بھی بیعت کے الفاظ دہراتی گئی۔جب آپ اس فقرہ پر پہنچے کہ ہم شرک نہیں کریں گی تو ہندہ بول اٹھی کہ یا رسول اللہ کیا اب بھی ہم شرک کریں گی۔ہم ہزاروںہزار تھے اور آپ کے ماننے والے صرف چند آدمی تھے۔ہم طاقتور تھے اور آپ کمزور تھے۔ہمارے پاس لڑائی کا ہر قسم کا سامان موجود تھا اور آپ کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔اگر ہمارے بت طاقتور ہوتے تو خواہ وہ مقابلہ نہ کرتے،غیر جانبدار رہتے تب بھی آپ جیت نہیں سکتے تھے۔مگر معلوم ہو تا ہے کہ ہمارے بت بے طاقت تھے اور آپ کا خدا طاقت ور تھا اسی لئے آپ جیت گئے۔آپ نے فرمایا ہندہ ہے؟ ہندہ آپ کی رشتہ دار ہی تھی اور آپؐ اس کی آواز کو پہچانتے تھے وہ تیز طبیعت تو تھی ہی فوراً بول اٹھی یا رسول اللہ بے شک آپ نے حکم دیا ہو اہے کہ جہاں میں پائی جاؤں ماری جاؤں۔مگر میں اب مسلمان ہوچکی ہوں آپ مجھے مار نہیں سکتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے اب تم پر وہ حکم نہیں چل سکتا(السیرۃ الحلبیۃ فتح مکۃ شرفھا اللہ تعالٰی)۔دوسرا شخص ابو جہل کا بیٹا عکرمہؓ تھا اس کے بھی مارے جانے کا حکم تھا۔جب مکہ فتح ہو اتو یہ وہاں سے بھاگ گیا