تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 117
تباہ ہو جائے گا۔بد امنی کا دور دورہ ہو جائے گا۔ہر طرف فساد پھیل جائے گا۔ڈاکہ زنی اور چوریوں کے واقعات بڑھ جائیں گے اور لوگ جرائم کے عادی ہو جائیں گے۔اس کے ساتھ ہی اسلامی تعلیم یہ بھی ہے کہ مَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِہٖ وَ عِرْضِہٖ فَھُوَ شَھِیْدٌ(ریاض الصالحین باب بیان جماعۃ من الشھداء۔۔۔۔)۔جو شخص اپنے مال اور عزت کی حفاظت کرتا ہو امارا جاتا ہے وہ شہید ہے۔یہ وہ تعلیم ہے جو دنیا میں امن قائم کرنے والی ہے۔جب کہیں ڈاکہ پڑے گا سارے شہر والے باہر نکل کر مقابلہ کے لئے آجائیں گے اور ڈاکو آئندہ اس شہر میں آنے کی جرأت نہیں کریں گے کیونکہ وہ سمجھ لیں گے کہ اس شہر کے لوگ ہو شیار ہیں۔پھر جب ہر شخص کو یہ نظر آئے گا کہ اگر وہ اپنے مال اور عزت کی حفاظت کرتا ہو امارا جائے گا تو شہید ہو گا تو ایسا شخص ڈرے گا کیوں۔وہ سمجھے گا کہ اگر میں مقابلہ کرتے کرتے مارا گیا تو شہید ہو جاؤں گا اور اگر بچ گیا تو مال بھی محفوظ رہے گا اور عزت بھی قائم رہے گی غرض امن اگر قائم ہو گا تو اسلام کی تعلیم کے مطابق ہو گا۔عیسائیوں اور یہودیوں کی تعلیم کے مطابق نہیں ہو گا۔اسی طرح یہودیوں کی کتاب میں یہ حکم ہے کہ جب تو کسی ملک پر حملہ کرے اور اسے فتح کر لے تو تُو اس ملک کے تمام مردوں کو مار ڈال حتی کہ جانوروں کو بھی مار ڈال اور اس ملک کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لے۔یہ کیسی وحشیانہ تعلیم ہے اور کیا اس سے ملک میں امن قائم ہوسکتا ہے؟جب یہ ان کے سارے مرد مار دیں گے اور ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیں گے تو یہ صاف بات ہے کہ جب ان کا داؤ چلے گا وہ بھی ایسا کریں گے۔یہ قدرتی بات ہے کہ انسان کے اندر ہر چیز کا ردّ عمل پید اہو تا ہے اگر اس تعلیم کے مطابق یہودی کسی کے ساتھ ایسا سلوک کریں گے تو جب دوسری قوم کا غلبہ ہو گا وہ بھی ان سے ویسا ہی سلوک کرے گی۔اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ کھیتی باڑی تباہ ہو جائے گی، فصلیں بر باد ہو جائیں گی، قوم کے افراد کم ہوجائیں گے،محنت کرنے والے کہیں نہیں ملیں گےکیونکہ سب لوگ مارے جاچکے ہوں گے لیکن اس کے مقابلہ میں اسلام یہ کہتا ہے کہ اگر بحالت مجبوری تمہیں لڑنا بھی پڑے تو قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ ( البقرۃ:۱۹۱) تم صرف ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑ رہے ہوں۔وہ لوگ جو قانون ملک اور اخلاق فاضلہ کو بالائے طاق رکھ دیں تم ان سے بے شک لڑو لیکن جو لڑائی میں شامل ہی نہیں ان کو مارنے کا کیا مطلب؟ جو تمہیں مارنا چاہتا ہو اور تم پر اپنا ہاتھ اٹھاتا ہے اس کو تم بھی مارو۔اگر وہ مر جائے گا تو کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ تمہیں مارنا چاہتا تھا لیکن جو گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور لڑائی میں شامل نہیں ہوئے خواہ وہ اس قوم کے ہی افراد ہوں جس سے لڑائی ہو رہی ہے وہ کیوں مارے جائیں۔وہ تمہارے مقابلہ پر نہیں آئے، وہ تم سے لڑے نہیں، تمہارے مقابلہ پر انہوں نے تلوار نہیں اٹھائی۔پھر ان کو مارنے کا کیا مطلب؟پھر اسلام کہتاہے عورتوں اور بچوں کو بھی نہ مارو، کمزوروں کو بھی نہ مارو۔تاریخ سے ثابت