تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 109

حضرت مسیح علیہ السلام نے یہ تعلیم دی ہے بلکہ وہ اپنے شوق کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں اسلام نے جانوروں کے متعلق مستقل احکام دیئے ہیںاور جو مسلمان ان سے حسن سلوک کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کرتاہے۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے سزا دی گئی۔اس عورت نے ایک بلی کو باندھ دیا اور اسے کھانے پینے کے لئے کچھ نہ دیا اور وہ بھوکی پیاسی مر گئی۔خدا تعالیٰ نے اس فعل کی وجہ سے اسے جہنم میں داخل کر دیا (بخاری کتاب الانبیاء باب حدیث الغار) اسی طرح احادیث میں آتا ہے کہ ایک شخص کہیں جارہا تھا کہ اس نے ایک کتے کو دیکھا جو پیاسا تھا لیکن وہ پانی تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔اس شخص نے سوچا کہ جس طرح میں پیاسا تھا یہ بھی پیاسا ہے اور نشیب جگہ میں اتر کر جُوتی میں پانی بھرا اور اس کتے کو پلایا۔اللہ تعالیٰ اس کے اس فعل سے خوش ہوا اور اس نے اس کے سارے گناہ معاف کر دیئے۔(بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الناس والبھائم ) ایک صحابی کہتے ہیں قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَفَرِہٖ فَانْطَلَقَ لِـحَاجَتِہٖ فَرَاَیْنَا حُـمَّرَۃً مَعَھَا فَرْخَانِ فَاَخَذْنَا فَرْخَیْـھَا فَـجَاءَتِ الْـحُمَّرَۃُ فَـجَعَلَتْ تَفْرُشُ فَـجَآءَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ فَـجَّعَ ھٰذِہٖ بِوَلَدِھَا رُدُّوْا وَلْدَھَا اِلَیْـھَا(ابو داؤد کتاب الجھاد باب فی کراھیۃ حرق العدو با لنار)ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم سفر کر رہے تھے۔آپ کسی کام کے لئے اِدھر اُدھر ہوئے تو ہم نے ایک فاختہ کو دو بچوں سمیت دیکھا۔ہم نے اس کے بچے پکڑ لئے فاختہ نے زمین پر لوٹنا شروع کیا۔اتنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے اور اسے دیکھ کر فرمایا اس فاختہ کو کس نے اس کے بچہ کے ذریعہ سے دکھ پہنچایا وہ شخص فوراً اس کا بچہ واپس کرے۔اسی طرح احادیث میں آتا ہے اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم مُرَّ عَلَیْہِ بِـحِمَارٍ قَدْ وُسِـمَ فِیْ وَجْھِہٖ فَقَالَ اَمَا بَلَغَکُمْ اَنِّیْ قَدْ لَعَنْتُ مَنْ وَسَـمَ الْبَـھِیْمَۃَ فِیْ وَجْھِھَا اَوْ ضَـرَبَـھَا فِیْ وَجْھِھَا فَنُـھِیَ عَنْ ذَالِکَ (ابو داؤد کتاب الجہاد باب النّھی عن الوسم فی الوجہ والضرب فی الوجہ) کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھے کے منہ پر لوگوں کو نشان لگاتے دیکھا۔آپ نے فرمایا کیا کرتے ہو کیا تم کو معلوم نہیں کہ میں نے منہ پر نشان لگانے والے یا منہ پر مارنے والے کو برا قرار دیا ہے پس ایسا نہ کیا کرو۔غرض اسلام نے صرف انسانوں کے حقوق کی ہی نہیں بلکہ جانوروں کے حقوق تک کی حفاظت کی ہے۔حکمت تیسری بات جو دعائے ابراہیمی کے جواب میں مذکورہ بالا آیت میں بتائی گئی ہے یہ ہے کہ یہ حکمت سکھاتا ہے۔حکمت کے معنے عربی زبان میں وہی ہیں جو انگریزی میں فلسفہ کے ہیں۔جس طرح ہسٹری اور چیز ہے