تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 108
کوئی ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں اور اس کو لوٹنے کی کوشش نہ کریں۔یہی کافی ہے کہ دنیامیں امن قائم ہو گیا۔جب لیگ آف نیشنز قائم ہوئی ان دنوں میں انگلستان گیا ہوا تھا۔میں نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔کیونکہ قرآن کریم نے یہ شرط رکھی ہے کہ جب دو قوموں میں اختلاف ہو جائے اور ان میں سے کوئی تمہارا فیصلہ نہ مانے تو باقی سب حکومتیں اس پر مل کر لشکر کشی کردیں۔لیکن لیگ آف نیشنز میں اس قسم کی لشکر کشی کی کوئی صورت نہیں رکھی گئی اور اب جو یونائیٹڈ نیشنز کی انجمن بنی ہے اس کے متعلق بھی میں وہی کچھ کہتا ہوں کہ یہ بھی کبھی کامیاب نہیں ہو گی جب تک کہ وہ اپنے قواعد نہ بدلے۔کیونکہ اس میں بھی وہ شرائط پورے طور پر نہیں پائی جاتیں جو اسلام نے تجویز کی ہیں۔اس میں لشکر کشی کے لئے اختیارات تو رکھے ہیں مگر پھر بھی کوئی معین فیصلہ نہیں کیا گیا اور پھر اس میں بعض حکومتوں کو شامل کیا گیا ہے اور بعض کو شامل نہیں کیا گیا۔مثلاً سپین کی حکومت ہے اس کو انہوں نے شامل نہیں کیا۔جب وہ کہتی تھی کہ میں تمہارے احکام ماننے کے لئے تیار ہوں تو چاہیے تھا کہ اسے بھی شامل کر لیتے۔مگر ایسا نہیں کیا گیا۔اسی طرح بعض کو کم اختیارات دئیے گئے اور بعض کو زیادہ۔گویا اب بھی ایسے امتیازات رکھے گئے ہیں جن کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔اس لئے یہ بھی کامیاب نہیں ہو گی۔آج یوروپ بڑا خوش ہے کہ اس نے ایسا قانون مقرر کر دیا ہے۔مگر اسے کیا معلوم کہ وہ قانون جو ہر لحاظ سے مکمل اور قابل عمل ہے آج سے تیرہ سو سال پہلے کی نازل شدہ قرآنی آیات میں موجود ہے۔اگر اس قانون پر عمل کیا جائے تو وہ جھگڑے جنہوں نے آج دنیا کو ہلاکت اور بربادی کے گڑھے میں گرا رکھا ہے بالکل دور ہو جائیں اور دنیا ایک بار پھر امن اور اطمینان کی زندگی بسر کرنے کے قابل ہو جائے۔اوپر میں نے جو کچھ بیان کیا ہے یہ اسلام کی اس تعلیم کا حصہ ہے جو اس نے بنی نوع انسان کے متعلق پیش کی ہے اور جس کی مثال کوئی اور مذہب پیش نہیں کر سکتا۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ اسلام نے صرف انسانوں کے متعلق ہی تعلیم نہیں دی بلکہ اس نے جانوروں کا بھی خیال رکھا ہے اور ان سے بھی حسن سلوک کی تعلیم دی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ فِيْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآىِٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ (الذَّاریٰت:۲۰ ) تمہارے مال میں مانگنے والوں اور نہ مانگنے والوں دونوں کا حق ہے۔محروم کے معنے انسانوں میں سے ان لوگوں کے بھی ہو سکتے ہیں کہ جو مانگ نہیں سکتے مگر زیادہ تر اس سے اشارہ ان بے زبان جانوروں کی طرف ہے جو مانگ ہی نہیں سکتے۔مثلاً بلی، کتا اور دوسرے جانور۔اس میں شبہ نہیں کہ بعض غیر قومیں جانوروں سے بڑا پیار کرتی ہیں۔مثلاً انگریز ہیں وہ کتے کی بڑی قدر کرتے ہیں۔ان کے نزدیک ایک کتا دس ایشیائیوں سے بھی بہتر ہوتا ہے مگر کتے سے پیار وہ اس لئے نہیں کرتے کہ انہیں