تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 110
اور فلاسفی آف دی ہسٹری اور چیز ہے۔فیلالوجی اور چیز ہے اور فلاسفی آف دی فیلالوجی اور چیز ہے۔لاء اور چیز ہے اور فلاسفی آف دی لاء اور چیز ہے۔اسی طرح احکام اور چیز ہیں اور ان کی حکمت اور چیز ہے۔ایک چیز واقعات اور تفصیلات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور دوسری اس کے پس منظر کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔مثلاً نماز کیا ہے ایک خاص رنگ کی عبادت ہے جو بعض شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔یعنی وضو کیا، نیت باندھی، سورۃ فاتحہ پڑھی، رکوع کیا، سجود کئے، کچھ ٹکڑے قرآن کریم کے پڑھے، دعائیں کیں اور سلام پھیر دیا۔مگر یہ تو ہے دعا لیکن اس کا فلسفہ یا حکمت الگ شے ہے۔اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ نماز کیا شے ہے تو ہم اسے نماز پڑھنے کی تفصیل بتائیں گے لیکن اگر کوئی پوچھے کہ نماز کیوں پڑھی جاتی ہے تو ہم اسے یہ نہیں بتائیں گے کہ ہم اس طرح وضو کرتے ہیں اور پھر قیام کرتے ہیں، رکوع کرتے ہیں، سجود کرتے ہیں بلکہ ہم یہ بتائیں گے کہ نماز کیوں مقرر کی گئی ہے اس کے فوائد کیا ہیں۔اس کا مقصد کیا ہے۔اس کی غرض کیا ہے۔پس کسی چیز کا فلسفہ وہ چیز ہے جس میں اس کے موجب اوراس کی غرض و غایت کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے یا فلسفہ ان محرکات کو کہتے ہیں جو ماضی میں ہوتے ہیں۔یعنی فعل سے پہلے وقوع پذیر ہوتے ہیں یا ان نتائج کو کہتے ہیں جو فعل کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔مثلاً ایک شخص نے احسان کیا اس کا ہم شکریہ ادا کریں گے۔تو شکریہ کا محرک پہلے موجود ہو گا۔لیکن جب ہم کسی کی خدمت کرتے ہیں تو مزدوری پہلے ہو گی اور اس فعل کا نتیجہ یعنی اجرت بعد میں ملے گی۔پس کبھی غایت انسان کے لئے محرک بن جاتی ہے او رکبھی ابتداء محرک بن جاتی ہے۔فلاں چیز کیوں ہے اور کس لئے ہے اس کا جو جواب ہو گا وہ فلسفہ کہلاتا ہے۔اسی طرح یہ بتانا کہ فلاں کام کے اندر کیا کیا مصلحتیں پوشیدہ ہیں کیا کیا خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے اس کا حکم دیا گیا ہے یا اسے اختیار کیا گیا ہے۔یہ سب حکمت کے ماتحت آتے ہیں۔کتب الہامیہ میں قرآن کریم ہی وہ پہلی کتاب ہے جس نے یہ اصول پیش کیا ہے کہ ہر کام حکمت کے ماتحت ہونا چاہیے اور یہ صرف انسان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ خدا تعالیٰ بھی کوئی کام بلاوجہ نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے مَا لَکُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا (نوح:۱۴) تمہیں کیا ہو گیاکہ تم خدا تعالیٰ کی حکمت کو تسلیم نہیں کرتے۔تم اپنے متعلق تو یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ تمہیں یہ کہا جائے کہ تم بغیر کسی مقصد اور مدعا کے کام کرتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے متعلق تمہیں یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی کہ خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان کو یوں ہی پیدا کر دیا ہے۔اسی لئے خدا تعالیٰ کا ایک نام حکیم بھی ہے اور اس نے ہر جگہ اپنے احکام کی وجہ بیان کی ہے صرف یہ نہیں کہا کہ چونکہ میں خدا ہوں اس لئے میں تمہیں حکم دیتا ہوں کیونکہ انسان دلائل کا محتاج ہے۔اگر خدا تعالیٰ حکم دیتا کہ فلاں کام کرو اور پھر اس کی وجہ بیان نہ کرتا تو انسانی ایمان بہت حد تک کمزور رہتا اور وہ کہتا کہ خدا تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے میری سمجھ