تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 85

عطا کرتا ہے تاکہ لوگوں کو کوئی دھوکا نہ لگے اور وہ سمجھ لیں کہ جو شخص پہلی وحی کے بیان کرنے میںراستبازی سے کام لے رہا ہے وہ اس وحی میں بھی ضرور صادق اور راستباز ہے۔لیکن اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ نہ اس پر کثرت سے وحی لفظی نازل ہوتی ہے نہ اس پروحی جبریلی نازل ہوتی ہے نہ اس پر تصویری یا تعبیری زبان میں وحی نازل ہوتی ہے اور وہ دعویٰ یہ کرتا ہے کہ مجھے وحی قلبی خفی ہوتی ہے تو اس کا یہ دعویٰ کسی عقلمند کی نگاہ میںقابل قبول نہیںہو سکتا۔ہر شخص کہے گا کہ وہ پاگل ہے جو اپنے دل کے خیالات کا نام وحی رکھ رہا ہے۔غرض یہ وحی بڑا فتنہ پیدا کرنے والی چیز ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وحی کو کلام لفظی اور جبریلی اور غیر جبریلی وحی کے تابع رکھتا ہے۔جس شخص پر بکثرت یہ تین وحیاں نازل ہوں وہ اگر کہے کہ مجھ پر وحی قلبی خفی نازل ہوتی ہے توہم اسے فریب خوردہ نہیںکہیں گے اور اس کی بات مان لیں گے۔لیکن جب کوئی دوسرا شخص یہ کہے جس پر کوئی اور وحی نازل نہ ہوتی ہو تو ہم سمجھیں گے وہ پاگل ہے۔یہی حال بہاء اللہ اور لاہور کے غلا م محمد کا ہے ہم ان لوگوں کو بھی عام معیار عقل سے گرا ہوا خیال کرتے ہیں۔دوسرے یہ وحی امور غیبیہ کے متعلق ہوتی ہے امور احکامیہ کے بارہ میں نہیںتا کہ دھوکا نہ لگے۔کیونکہ امور غیبیہ میںفتنہ کا اندیشہ نہیںہوتا ان کی تفسیر بعد میںہو جاتی ہے مگر امور احکامیہ کے نزول کی کوئی تفسیر بعد میں نہیں ہوتی۔کلامِ الٰہی کےسمجھنے کا ایک گُر کلام الٰہی کے متعلق یہ با ت بھی یاد رکھنی چاہیے کہ سب اقسام کلام حقیقت ظاہر اور مجاز دونوں قسم کی عبارتوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ اس میںصرف حقیقت ظاہری پائی جاتی ہو۔بلکہ جس طرح منام میں دیکھی گئی چیز تعبیر طلب ہوتی ہے اسی طرح وہ کلام بھی جو اللہ تعالیٰ اپنے بندہ پر نازل فرماتا ہے اس میں مجاز اور استعارات پائے جاتے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ منام میںجو نظارہ دکھایا جائے وہ اکثر تعبیر طلب ہوتا ہے لیکن الفاظ کی صورت میں جو کلام نازل ہوتا ہے اس میںسے بعض تاویل طلب ہوتا ہے اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے جب غیر احمدیوں کے سامنے ہم قرآن کریم کی آیات کے وہ مطالب بیان کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان میںمخفی رکھے ہوئے ہیں تو وہ کہہ دیا کرتے ہیںتم تو کلام الٰہی کی تاویل کرتے ہو۔بجائے ا س کے کہ ظاہرالفاظ جس حقیقت کی طرف راہنمائی کرتے ہیں تم اس کو لو ان الفاظ کی تاویل کرنا شروع کر دیتے ہو۔ان کے ذہن میں یہ بات مرکوز ہوتی ہے کہ کلام الٰہی کی تاویل نہیں کی جا سکتی بلکہ ہمیشہ اس کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے ہی دیکھا جا سکتا ہے اور اگر تاویل کی جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر کلام الٰہی کی بھی تاویل کی جائے تو پھر تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ رہا۔یہ ایسی عقل کے خلاف بات ہے کہ اسے سن کر حیرت آتی ہے۔آخر دنیا میںعام بول چال جو روزانہ بیداری کی حالت میں