تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 86
کی جاتی ہے اس میںمجاز استعمال ہوتا ہے یا نہیں ہوتا اور پھر ان باتوں کے بعد دنیا میںکوئی ٹھکانہ رہتا ہے یا نہیں رہتا؟ ہم تو دیکھتے ہیں کہ دنیا میںجو باتیںکی جاتی ہیںان میں استعارات بھی ہوتے ہیں، ان میںمجاز بھی ہوتا ہے اور کوئی شخص بھی یہ نہیں کہتا کہ اگر کلام میںمجاز استعمال کیا گیا تو دنیا میںکوئی ٹھکانہ نہیںرہے گا۔غالب کا کلام پڑھ لیا جائے، ذوق کے کلام کو دیکھ لیا جائے وہ مجاز اور استعارے استعمال کرتے ہیں یا نہیں ؟ اور کیا ان کے کلام کے بعد دنیا میںکوئی ٹھکانہ رہتا ہے یا نہیںرہتا؟ ہم تو دیکھتے ہیں بڑے بڑے ادیب اور بڑے بڑے شاعر روزانہ مجاز اور استعارے اپنے کلام میںاستعمال کرتے ہیںاور کوئی شخص ان کے اس طریق پر اعتراض نہیں کرتا۔اگر ان کے کلام کے بعد دنیا میںٹھکانہ قائم رہتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ کا کلام ہی ایک ایسی چیز ہے کہ اگر اس میں مجاز یا استعارہ آجائے تو دنیا میںکوئی ٹھکانہ نہیںرہتا ؟ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ معترضین خدا تعالیٰ کے کلام کو اتنی خوبیوں کا حامل بھی نہیںسمجھتے جتنی خوبیاں ان کے نزدیک انسانی کلام میں موجود ہونی چاہئیں۔خدا تعالیٰ اپنے کلام میںمجاز اور استعارہ استعمال کرے تو انہیں اعتراض سوجھ جاتا ہے لیکن اگر بڑے بڑے ادیبوں کے کلام میںمجاز اور استعارہ استعمال ہو تو اس وقت وہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیںکہ یہ بڑا فصیح کلام ہے۔وہ یہ نہیں کہتے کہ مجاز اور استعارہ کے استعمال کی وجہ سے ہمیںا س کلام کے سمجھنے میں شبہ پیدا ہو گیا ہے وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ جب مجاز اور استعارہ استعمال کر لیا گیا ہے تو پھر تو کلام کا اعتبار اٹھ گیا۔وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ مجاز اور استعارہ کے استعمال کی وجہ سے زبان بگڑ گئی ہے بلکہ وہ اس کلام سے مزہ اٹھا تے ہیں۔اس کی بلاغت کی تعریف کرتے ہیں اور اسے سارے کلام پر ترجیح دیتے ہیں آخر غالب کو دوسروں پر کیا فوقیت حاصل ہے یا ذوق کو دوسروں پر کیا فوقیت حاصل ہے یہی کہ وہ مجاز اور استعارہ میں حقیقت کو بیان کرتے ہیں اور لوگ سن کر کہتے ہیں کہ غالب اور ذوق نے کمال کر دیا۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ جسے عام کلام میں اعلیٰ درجے کا کمال سمجھا جاتا ہے وہ کمال اگر الٰہی کلام میںآجائے تو کہتے ہیںکہ پھر تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ رہا۔جب عام بول چال جو بیداری میں کی جاتی ہے اس میںبھی مجاز کثرت سے استعمال ہوتا ہے تو پھر وحی میںکیوںنہ ہو؟ استعارہ اور مجاز تو بلاغت کی جان ہوتے ہیں کلام الٰہی ان کے بر محل استعمال سے کیوں محروم ہو؟ ہاں جس طرح انسانی بول چال میںمجاز اور استعارہ کے باوجود غلطی سے بچنے کے ذرائع موجود ہیں ایسے ہی ذرائع کلام الٰہی کو بھی حاصل ہیں۔ان کی موجودگی میں عقلمند کو دھوکا نہیںلگ سکتا اور بے وقوف کو تو ہر بات سے دھوکا لگ سکتا ہے۔جیسے ایک بےوقوف کی مثال ہے کہ اس نے یہ سن کر کہ اگر بتادو میری جھولی میںکیا ہے تو ان میںسے ایک انڈا تم کو دے دوں کہا کہ کچھ اتہ پتہ بتائو تو بتائوں۔حقیقت یہ ہے کہ جو ذرائع انسانی کلام میںغلطی سے محفوظ