تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 84
کے محرک ہوتے ہیں۔اسی طرح وحی قلبی خفی کے نازل ہونے کا ادّعا کرنے والے انسان کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس پر دوسری وحی بھی نازل ہوتی ہو اور اس کی صداقت کے ایسے دلائل اور شواہد پائے جاتے ہوں جن کی بنا ء پر کسی شخص کے دل میںاس کے وہمی یا پاگل ہونے کا خیال نہ گذرے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرمایا کہ روح القدس نے فلاں بات میرے دل میںڈال دی ہے تو صحابہ کو اس کے ماننے میں کوئی تامل نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اس سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فلق الصبح کی طرح پوری ہونے والی وحی بھی نازل ہو چکی تھی۔جبریل کے ذریعہ بھیجی جانے والی وحی بھی نازل ہو چکی تھی اور وہ کلام بھی آپ پر نازل ہو چکا تھا جو مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ہوتا ہے۔اور وہ سمجھ سکتے تھے کہ جس شخص نے ہمیشہ سچی باتیں ہمارے سامنے بیان کی ہیںوہ اب بھی جو کچھ کہہ رہا ہے کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔حدیثوں میںآتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہاآپ نے میرا اتنا قرض دینا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میںتو تمہاری رقم واپس کر چکا ہوں اس نے کہا آپ واپس دے چکے ہیں تو کوئی گواہ پیش کریں۔اس پر ایک صحابی کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ میںاللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اس یہودی کے روپے ادا کر دیئے ہیں۔یہودی نے یہ بات سنی تو اس نے اقرار کر لیا کہ ہاں مجھے یاد آگیا آپ نے مجھے روپے دے دیئے تھے۔جب وہ واپس چلا گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی سے پوچھا تمہیں کس طرح پتہ ہے کہ میں نے یہ روپے ادا کر دیئے تھے جب میں نے یہ قرض واپس کیا ہے اس وقت تو تم موجود نہیں تھے؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ جانے بھی دیجئے آپ آسمان کی باتیں ہمیںبتاتے ہیںتو ہم آپ پر ایمان لے آتے ہیں کیا زمین کی بات آپ کہیں گے تو ہم اس پر ایمان نہیںلائیں گے۔جس طرح ہم آپ کی آسمان والی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اسی طرح ہم آپ کو زمین سے تعلق رکھنے والی باتوں میں بھی سچا اور راستباز سمجھتے ہیں یہ بات جو اس صحابی ؓ نے بیان کی بالکل درست ہے۔کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ کا مامور اور مرسل ہے اگر وہ کوئی بات کہے گا تو بہر حال سچ ہی ہو گی۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ غلط بات کہے۔چنانچہ جب اس صحابی نے یہ بات کہی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملامت نہیںکی بلکہ آپ خوش ہوئے اور فرمایا آئندہ اس شخص کی گواہی دو گواہوں کے برابر سمجھی جائے۔یہ فضیلت اسے دوسروں پر اسی لئے عطا کی گئی کہ اس نے محض دوستی کی خاطر بات نہیں کی بلکہ اپنی گواہی کی بنیاد اس نے کلام الٰہی پر رکھی اور کہا کہ جس شخص پر خدا تعالیٰ روزانہ اپنا کلام نازل کرتا ہے اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی دوسری بات بھی جو زمین سے تعلق رکھنے والی ہے کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔اسی طرح جس شخص پر اللہ تعالیٰ وحی قلبی خفی نازل کرتا ہے اسے دوسرے شواہد بھی