تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 2

کسی اور سورۃ کا ایک ٹکڑا معلوم ہوتی ہے۔(A Comprehensive Commentary on the Quran by Wherry v:4 p268) مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ناواقف آدمی اپنی ناواقفیت کے نتیجہ میں ایک بات کہہ دیتا ہے اور وہ نکل سچی آتی ہے درحقیقت ویری کا یہ کہنا کہ یہ سورۃ اپنی ذات میں مکمل نظر نہیں آتی بلکہ کسی اور سورۃ کا ٹکڑا معلوم ہوتی ہے نادانستہ گونا مکمل اعتراف ہے اس امر کا کہ اس سورۃ کا مضمون پہلی سورۃ کا تتمہ ہے چونکہ ویری کو علمِ قرآن حاصل نہیں اس کا ذہن ادھر تو گیا کہ یہ سورۃ نا مکمل ہے لیکن اس کا ذہن ادھر نہ جا سکا کہ یہ کس دوسری سورۃ سے مل کر مکمل مضمون دیتی ہے۔اس کی مثال ابن صیاد یہودی کی طرح ہے جس کا دعویٰ تھا کہ دل کی بات بوجھ لیتا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ دخان کا مضمون دل میں رکھ کر اس سے پوچھا کہ بتا میرے دل میں کیا ہے تو دُخ دُخ کہہ کر رہ گیا(سنن ابو داؤد، کتاب الملاحـم باب خبر ابن صیاد)۔اسی طرح یہ پادری ویری اصل نکتہ معلوم نہ کر سکا کہ اس کا مضمون تتمہ ہے سورہ ٔبینہ کے مضمون کا۔اس لئے غور سے دیکھنے والی لیکن نا تجربہ کار اور اسرار قرآنی سے نا واقف آنکھ کو یہ تو معلوم نہ ہو سکا کہ یہ سورۃ پہلی سورۃ کے مضمون سے شدید تعلق رکھتی ہے۔ہاں وہ اتنا بھانپ گئی کہ یہ سورۃ کسی دوسری سورۃ کاٹکڑا نظر آتی ہے۔سورۃ الزلزال کے متعلق بعض روایات اور مفسرین کا ان سے سورۃ الزلزال کی فضیلت ثابت کرنا اس سورۃ کی نسبت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے احمد ابودائود اور نسائی نے روایت کی ہے کہ اَتٰی رَجُلٌ رَسُوْلَ ﷲِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اَقْرِأْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللہِ قَالَ اِقْرَأْ ثَلَاثًا مِّنْ ذَوَاتِ الٓرٰ فَقَالَ الرَّجُلُ کَبُـرَ سِنِّیْ وَ اشْتَدَّ قَلْبِیْ وَ غَلُظَ لِسَانِیْ قَالَ اِقْرَأْ ثَلَاثًا مِّنَ الْمُسَبِّحَاتِ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِہِ الْاُوْلٰی وَقَالَ وَلٰکِنْ اَقْرِأْنِیْ یَا رَسُوْلَ ﷲِ سُوْرَۃً جَامِعَۃً فَاَقْرَأَہٗ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَہَا حَتّٰی فَرِغَ مِنْـھَا قَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بَالْـحَقِّ لَا اَزِیْدُ عَلَیْـھَا فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَفْلَحَ الرُّوَیْـجِلُ اَفْلَحَ الرُّوَیْـجِلُ یعنی ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ مجھے قرآن شریف پڑھائیں۔آپ نے فرمایا الٓرٰ والی تین سورتیں پڑھا کرو۔اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں بڈھا ہوگیا ہوں حافظہ خراب ہو گیا ہے زبان سخت ہو گئی ہے اس لئے مجھے کوئی اور سورۃ بتائیے۔آپ نے فرمایا اچھا تین سَبَّحَ والی سورتیں