تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 1

سُوْرَۃُ الْزِلْزَالِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ زلزال۔یہ سورۃ مکی ہے وَ ھِیَ ثَـمَانِیَ اٰیَاتٍ دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَفِیْـھَا رُکُوعٌّ وَّ احِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے سوا آٹھ آیات ہیں اور ایک رکوع ہے۔سورۂ زلزال مکی ہے مجاہد، عطاء اور ابن عباسؓ کے نزدیک یہ سورۃ مکی ہے قتادہ اور مقاتل اسے مدنی کہتے ہیں (روح المعانی زیر سورۃ زلزال) چونکہ ایک صحابی کی تائید پہلے قول کو حاصل ہے اس لئے ترجیح اسی قول کو ہوگی کہ اسے مکی سمجھا جائے۔مگر قرآن کریم کے مروّج نسخے جو ہمارے ملک میں پائے جاتے ہیں ان کے اوپر مدنی ہی لکھا ہوا ہے۔ویری نے اسے مکی قرار دیا ہے اور وہ کہتا ہے کہ باوجود اس کے کہ اس کی ابتدائی آیتیں مدنی سٹائل سے ملتی ہیں مگر ہے یہ مکی۔(A Comprehensive Commentary on the Quran by Wherry v:4 p268) یہ امر ہمیشہ ہی میرے لئے حیرت کا موجب رہتا ہے کہ یوروپین مستشرق جو زبان دانی کے لحاظ سے عام مولویوں سے بھی عربی کا علم کم رکھتے ہیں وہ سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کا فیصلہ کرتے وقت ان کے سٹائل کوکیوں زیر بحث لے آتے ہیں جبکہ ان کی علمی قابلیت ہرگز ایسی نہیں کہ وہ عربی کو اچھی طرح سمجھ سکیں کجا یہ کہ عربی زبان کے سٹائل کو پہچاننے کی قابلیت ان میں موجود ہو۔وہ جب بھی قرآن کریم کے متعلق اس کے سٹائل کے لحاظ سے کوئی فیصلہ دیتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی بچہ فلاسفہء یونان یا فلاسفہء جرمن کے متعلق اپنی رائے ظاہر کررہا ہو۔اصل بات یہ ہے کہ وہ چونکہ روایت و تاریخ اسلام کے علم سے کورے ہوتے ہیں تاریخی شواہد اور علم الروایات کی شہادت سے چونکہ کوئی نئی روشنی نہیں ڈال سکتے اِدھر انہیں اپنی علمیت جتانا بھی مقصود ہوتا ہے وہ کسی اسلامی مقولہ کی تصدیق سٹائل کے نام سے کر دیتے ہیں اس طرح کسی علمی روایت کا بھی ساتھ رہا اور سٹائل کے نام سے اپنی علمی مہارت کا بھی ثبوت دے دیا۔گو حقیقتاً قرآن کریم تو الگ رہا وہ عام عربی کتب کا سٹائل بیان کرنے کی بھی قابلیت نہیں رکھتے۔ترتیب سورۃ سورۂ زلزال کا سورۂ بینہ سے تعلق پچھلی سورۃ میں قرآن کریم کا وہ اثر بیان کیا گیا تھا جو ابتدائی زمانہ میں اس سے ظاہر ہونا تھا اب اس سورۃ میں اس کے آخری زمانہ کے اثر کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا ہے