تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 3

پڑھا لیا کرو فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِہِ الْاُوْلٰی اس نے وہی بات جو پہلے کہی تھی پھر دہرائی کہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں حافظہ خراب ہوگیا ہے اور زبان سخت ہوگئی ہے پھر اس نے کہا یارسول اللہ مجھے کوئی ایک سورۃ ایسی بتادیجئے جو جامع ہو۔اس پر آپ نے اسے اِذَازُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا والی سورۃ سنائی اور کہا کہ یہ پڑھو یہاں تک کہ جب آپ یہ سورۃ پڑھ چکے تو اس نے کہا مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھوں گا۔فَقَالَ رَسُوْلُ اللہُ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَفْلَحَ الرُّوَیْـجِلُ۔اَفْلَحَ الرُّوَیْـجِلُ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چھوٹا آدمی یعنی کمزور اور بڈھا کامیاب ہوگیا۔کامیاب ہو گیا۔اس حدیث سے شرّاح اور مفسرین اس سورۃ کی فضلیت نکالتے ہیں لیکن درحقیقت اس شخص کا مطلب یہ تھا کہ یا رسول اللہ ایک چھوٹی سی سورۃ مجھے بتا دیں جس کا میں ورد کیا کروں جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے۔کیونکہ اس شخص نے الٓرٰ کی سورتوں اور مسبّحات کی سورتوں کو لمبا بتایا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے قرآن سنا ہوا تھا ورنہ اسے یہ کیونکر معلوم ہوا کہ الٓرٰ والی سورتیں لمبی ہیں یا مسبّحات والی سورتیں اس کی طاقت سے بڑھ کر ہیں۔میں تو سمجھتا ہوں کئی معمولی قرآن شریف پڑھنے والوں کے سامنے اگر مسبّحات کا ذکر کیاجائے تو ان میں سے کئی کہہ دیں گے کہ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ مسبّحات سے آپ کی کیا مراد ہے۔مگر اس شخص نے آپ کی بات سن کر کہا کہ یا رسول اللہ یہ میری طاقت سے بڑھ کر ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ نہ صرف اس نے سارا قرآن سنا ہوا تھا بلکہ اس طرح سنا ہوا تھا کہ وہ سورتوں کو الگ الگ پہچانتا تھا۔دوسرے آپ کا یہ فرمانا کہ تو تین فلاں سورتیں پڑھ۔اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ آپ بھی یہ سمجھتے تھے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ضرور آپ سے ہی پڑھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مجھے کوئی سورۃ پڑھنے کے لئے بتادیں جیسے ہمارے ملک میں کئی لوگ آتے ہیںتو کہتے ہیں کوئی وظیفہ بتا دیجئے۔اسی طرح حدیث کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اس کا مطلب صرف اتنا تھا کہ حضور مجھے کوئی ایسی سورۃ بتا دیں جس کا میں وظیفہ کیا کروں۔آپ نے اسے الٓرٰ والی تین سورتیں بتا دیں۔اگر زلزال کی کوئی خاص فضیلت ہوتی تو آپ اسے پہلے الٓرٰ والی تین سورتیں کیوں بتاتے پھر تو چاہیے تھا کہ آپ پہلے اسے سورۂ زلزال بتا دیتے۔اس پر جب اس نے کہا کہ میں بڈھا ہوں حافظہ خراب ہے اور زبان بھی سخت ہوگئی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری دفعہ بھی سورۂ زلزال نہیں بتائی بلکہ مسبّحات بتائیں۔اگر اس حدیث سے سورۂ زلزال کی فضیلت کا استنباط کیا جا سکتا ہے تو کیا یہ عجیب بات نظر نہیں آتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اعلیٰ سورۃ تو نہ بتائی اورادنیٰ سورتیں بتا دیں۔پس اس حدیث سے شرّاح