تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 574
مُرَاءَۃً اَیْ اَرَیْتُہٗ عَلٰی خِلَافِ مَا اَنَا عَلَیْہِ۔میں نے اسے وہ دکھایا جو میرے اندر نہیں پایا جاتا۔(اقرب) تفسیر۔آج کل کے بعض مسلمان تو ایسے ہیں جو بالکل ہی نمازوں کو چھوڑ چکے ہیں۔کچھ گنڈے دار نماز پڑھتے ہیں جو محض دکھاوے کے لئے نمازیں پڑتے ہیں ان کے دل میں کوئی شوق نہیں پایا جاتا۔یعنی ایک تو وہ ہیں جو بالکل بے دینی میں پڑ گئے ہیں اور وہ اسلام اور نماز کو مانتے ہی نہیں۔بعض پبلک مواقع تک دیندار ہیں اور بعض رسم کو تو چمٹے ہوئے ہیں مگر مغز کو پھینک دیا ہے۔صرف قوم کے سامنے نیک بننے کی خواہش ہے۔وَ يَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَؒ۰۰۸ اور جو گھر کے معمولی سامان تک کے دینے سے (اپنے نفسوں کو اور دوسروں کو ) روکتے رہتے ہیں۔حلّ لُغات۔اَلْمَاعُوْنُ۔اَلْمَاعُوْنُ کے معنے ہیں اَلْمَعْرُوْفُ یعنی نیکی ،معروف، احسان۔نیز مَاعُوْنُ کے معنےہیں کُلُّ مَااِنْتَفَعْتَ بِہٖ۔ہر وہ چیز جس سے تو فائدہ اٹھائے اَوْکُلُّ مَا یُسْتَعَارُ مِنْ فَاسٍ وَّقَدُوْمٍ وَ قِدْرٍ وَنَـحْوِھِمَا مِنْ مَنَافِعِ الْبَیْتِ(اقرب)۔گھر کی وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جو عام استعمال کی ہو تی ہیں اور وقتاًفوقتاً ہمسائیوں سے مستعار لے لی جاتی ہیں مثلاً کلہاڑی ہنڈیا وغیرہ۔ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ اسلام سے پہلے مَاعُوْنُ ہر اس چیز کو کہتے تھےجو نفع رساں اور فائدہ مند ہو مگر اسلام میں اس کے معنے اطاعت اور فرماں برداری کے ہیں۔تفسیر۔اَلْمَاعُوْن سے مراد عام استعمال کی اشیاء اس آیت کے معنے یوں ہو ں گے کہ وہ لوگوںکو احسان کرنے سے روکتے ہیں یا لوگوں کو چھوٹی چھوٹی اور معمولی اشیاء بھی مستعار دینے سے روکتے ہیں یا یہ کہ چھوٹی چھوٹی استعمال کی چیزوں کو روکتے ہیں یعنی لوگوں کو دینے سے خود اجتناب کرتے ہیں۔گویا ایک زمانہ میں مسلمانوں کی ذلّت کی انتہا ہو جائے گی۔بدیوں میں ترقی کرتے کرتے ان میں اتنی خرابی پیدا ہو جائے گی کہ وہ ادنیٰ سے ادنیٰ احسانات بھی قوم کے فائدہ کے لئے نہیں کر سکیں گے۔ہم روز دیکھتے ہیں کہ ایسی ذلیل حرکتیں ہو تی رہتی ہیں۔دیہات میں عموماً ایسا ہو تا ہے۔اگر کسی کی چیز کوکوئی ہاتھ لگا دے تو وہ آنکھیں سرخ کر لیتا ہے۔پس اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے یہی بیان فرمایا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب مسلمانوںکی حالت اتنی گر جائے گی کہ وہ نمازیں بھی پڑھیں گے تو ریاء کی پڑھیں گے۔قومی فکر ان میں بالکل باقی نہیں رہے گا اور وہ اپنی قوم کی خاطر معمولی سے معمولی قربانی بھی نہیں کر سکیں گے۔