تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 573
بلکہ اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔جس سے ظاہر ہے کہ وہ نماز کے کلی تارک نہیں تبھی اپنی نماز کے الفاظ استعمال کئے یہ اشارہ کرنے کے لئے کہ وہ نماز کے مدعی ہیں لیکن اپنی نماز کبھی کبھی ترک بھی کر دیتے ہیں اور اپنی نماز کی طرف بے توجہی برت کر اسے خراب بھی کر دیتے ہیں۔عَنْ کو بطور صلہ استعمال کر کے بھی یہ بتایا ہے کہ وہ غلطی سے نہیں جان بوجھ کر نمازوں کو چھوڑ دیتے ہیں انہیں نمازوں سے کوئی محبت نہیں۔گویا ایسے لوگوں میں دو قسم کے نقص پید اہو جاتے ہیں۔ایک تو وہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خدا کی نماز پڑھ رہے ہیں مگر پڑھتے اپنی نماز ہیں اور دوسرے وہ نماز پڑھتے ہوئے اس کی طرف دھیان نہیں دے رہے ہوتے۔ان کے دل میں اس کے متعلق کوئی احساس نہیں ہوتا محض رسم و رواج کی خاطر نماز پڑھ لیتے ہیں۔اس لئے نماز پڑھ لیتے ہیں کہ اگر وہ نماز نہیں پڑھیں گے تو قوم کیا کہے گی۔رشتہ دار ناراض ہو جائیں گے۔بیوی اگر نماز پڑھتی ہے تو وہ طعنے دے گی۔باپ اگر نماز پڑھتا ہے تو وہ برا منائے گا۔بھائی اگر نماز پڑھتا ہے تو وہ برا منائےگا۔حالانکہ وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے ڈر کر نماز پڑھتے ہیں۔ملّاں مقتدی کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے اور مقتدی ملّاں کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے۔غرض قوم کی قوم الّا ماشاء اللہ صرف ایک دوسرے کو دکھانے کے لئے نماز پڑھتی ہے۔اسی وجہ سے جب یہی لوگ کفار کے ملک میں جاتے ہیں تو نماز ترک کر دیتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اسلامی مجمع ہو ایسا ہو تو خوب طرہ دار پگڑیاں باندھ کر جاتے ہیں اور مجلس میں چکر لگا لگا کر اپنے نمازی ہو نےکا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں یا پھر کوئی بڑا آدمی مر جائے تو اس کے جنازہ میں شریک ہو کر اپنے مذہب کا اعلان کرتے ہیں۔حالانکہ اگر ان کو آخرت پر یقین ہوتا تو نماز گنڈے دار کیوں پڑھتےاور اگر نماز پر یقین نہیں تو اخروی زندگی پر کس طرح یقین ثابت ہو سکتا ہے اور جب اُخروی زندگی پر یقین نہیں تو جنازہ کے معنے ہی کیا ہیں۔اصل میں یہ جنازے مرنے والےکے لئے نہیں ہوتے خود اپنے ایمان کا جھوٹا ڈھنڈورا پیٹنے کے لئے ہو تے ہیں کیونکہ بڑے آدمیوں کی وفات پر زیادہ اجتماع ہوتا ہے اور ان کو اپنے ایمان کے مظاہرہ کا اچھا موقعہ مل جاتا ہے۔الَّذِيْنَ هُمْ يُرَآءُوْنَۙ۰۰۷ (اور)جو ( ایک دوسرے کے مقابل)دکھاوے میں لگے رہتے ہیں۔حلّ لُغات۔مُرءَاۃ۔مُرءَاۃ کہتے ہیں دکھاوے کے لئے کوئی کام کرنا۔چنانچہ کہتے ہیں رَاءَیْتُہٗ