تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 575
ابو عبیدہ کی تفسیر کے مطابق اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ مسلمانوں میں سے اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ اٹھ جائے گا اور یہ بھی بیّن طور پر اس زمانہ میں نظر آرہا ہے۔ہر شخص میں خود سری ہے۔قومی نظر یہ کلّی طور پر مٹ چکا ہے۔شخصیات اور ذاتیات ہر ایک کے سامنے ہیں یا نفس ہے یا دوست ہے۔قوم کا خیال کوسوں دور ہے ہاں قوم کا نام ضرور ہے مگر یہ نام وہیں لیا جاتا ہے جبکہ اپنے آپ کو یا اپنی پارٹی کے آدمی کوفائدہ پہنچتا ہو۔اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ