تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 571
جائے تو جذبۂ قربانی کم ہو جاتا ہے اور یہ دونوں نقص کسی قوم کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دینے کے لئے کافی ہیں۔فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۠ۙ۰۰۵ پس ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لئے۔حلّ لُغات۔وَیْلٌ۔وَیْلٌ کلمہ عذاب ہے جب عذاب یا کسی کام کے بد نتائج کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہو تو وَیْلٌ کا لفظ بولتے ہیں اور یہ لفظ وَیْلٌ۔وَیْلًا اور وَیْلٍ تینوں طرح استعمال کیا جاتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ میں وَیْلٌ کے لفظ سے پہلے جو فاء لائی گئی ہے وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پہلے حالات بھی نمازی کے ہی ہیں اگر پہلے حالات نمازی کے نہ مانے جائیں تو پھر اس آیت کا پہلی آیات سے کوئی جوڑ معلوم نہیں ہو تا۔تکذیب کرے کوئی، دھتکارے کوئی اور لعنت ہو نمازی پر۔یہ خلاف عقل بات ہے پس ظاہر ہے کہ پہلی آیات میں بھی نمازی کا ہی ذکر ہے۔وَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۠ میں مسلمانوں کا ہی ذکر ہے جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں تیسویں پارہ کی آخری سورتیں باری باری پہلے اور آخری زمانہ پر دلالت کرتی ہیں۔سورۃ الفیل آخری زمانہ کے متعلق تھی اور سورۃ قریش محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے متعلق تھی۔اس اصول کے مطابق یہ سورۃ پھر آخری زمانہ کے متعلق ہے۔اس حقیقت سے بھی اس امر کی تصدیق ہو تی ہے کہ پہلی آیات میں جس کا ذکر تھا وہ بھی مسلمان تھا اور نمازی تھا۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسلمان او ر نمازی دین کا منکر کس طرح ہو سکتا ہے واقعات بتاتے ہیں کہ آج مسلمانوں میں سے ایک گروہ باوجود قرآنی تعلیم کے حشر و نشر پر یقین نہیں رکھتا۔مسلمانوں میں سے وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں ’’ ایہہ جگ مٹھا تے اگلا کس نے ڈِٹھا۔‘‘ (پنجابی مثل ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ یہ دنیا تومیٹھی ہے اگلا جہان کس نے دیکھا ہے کہ اس کی خاطر اس دنیا کی لذت کو چھوڑے)ایسے لوگوں کے سامنے اگر اسلام کے اصول پیش کئے جائیں تو وہ منہ سے تو اٰمنّا وَصَدَّقْنَا کہہ دیں گے لیکن دل میں اس پر یقین نہیں رکھیں گے۔یہ آخری زمانہ کے ہی مسلمان ہیں جومنہ سے تو اسلام کا اقرار کرتے ہیں لیکن دلوںمیں ان کے میل ہے۔یتامیٰ کو دھتکارتے ہیں مسکینوں کی طرف توجہ نہیں۔سینما دیکھتے ہیں، ناچ اور گانوں میں جاتے ہیں۔لیکن جب باہر آتے ہیں تو اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہیں اور کہتے ہیں جو حکومت شریعت پر عمل نہیں کرتی اسے توڑ ڈالو۔ان کی عورتیں سینماؤں میں جاتی ہیں، ناچ اور گانوں میں جاتی ہیں،