تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 569

عورت کی ضرورت تھی اس لئے میں نے بیوہ سے شادی کر لی ہے۔جب کوئی صحابی شہید ہو جاتا یا فوت ہو جاتا تو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور عرض کرتے یا رسول اللہ میری فلاں عورت سے شادی کرا دیجئے۔تا میں ان یتیم بچوں کی پرورش کر کے ثواب حاصل کر سکوں۔غرض وہاں یہ سوال ہی نہیں تھا کہ اولاد یتیم رہ جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کے لئے بازار سے گذرتے تو یتامیٰ آپ کو بازو سے پکڑ لیتے اور کہتے۔یا رسول اللہ ہمیں فلاں ضرورت ہے آپ وہیں رک جاتے ان کے ساتھ تشریف لے جاتے اور فرماتے چلو تمہارا کام پہلے کر دوں۔یہی وجہ تھی کہ صحابہ ؓ قربانی میں دریغ نہیں کرتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ نہ رہے تو اور بہت سے ایسے دوست ہوں گے جو ان کی اولاد کی پرورش اور نگہداشت کریں گے۔ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ صحابہ ؓ نے بیوہ سے شادی کی اور شادی کے بعد اپنی جائیداد بیوی کے پہلے بچوں کو دے دی۔اسی قربانی کا نتیجہ تھا کہ صحابہؓ نے کبھی مرنے سے احتراز نہیں کیا۔بے شک جان قربان کرنے کے جذبہ کے پیچھے جذبۂ ایمان و خواہش و صال الٰہی بھی تھی مگر جب اس کے ساتھ دنیوی سامان بھی مل جائیں تو یہ اور بھی زیادہ شاندار ہو جاتی ہے۔ہماری جماعت میں بھی یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ وہ یتامیٰ کی خبر گیری پوری طرح نہیں کرتی۔اسی وجہ سے ہماری جماعت بھی مرنے سے گھبراتی ہے۔اگر یتامیٰ کی خبر گیری کی جائے اور لوگ سمجھ جائیں کہ اگر ہم مر گئے تو ہماری اولاد ضائع نہیں ہو گی اور اس کی باقاعدہ پر ورش کی جائے گی تو جماعت میں قربانی کا مادہ بڑھ جائے۔میں اس ڈر سے یتیم خانہ نہیں کھولتا کہ کئی دفعہ یتیم خانے کھولے مگر لوگوں نے بچوں سے ذاتی کام لینا شروع کر دیا۔اسی لئے میں ایسے بچوں کو عام بورڈنگ میں ہی رکھنا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں۔وَ لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِؕ۰۰۴ اورمسکین کے کھانے کے لئے (لوگوں کو ) ترغیب نہیں دلاتا۔حلّ لُغات۔یَحُضُّ۔یَحُضُّ حَضَّ سے مضارع کا صیغہ ہے اور حَضَّہُ عَلَی الْاَمْرِ کے معنے ہیں حَـمَلَہٗ عَلَیْہِ۔اس کوکسی بات کی ترغیب دلائی (اقرب) پس لَا یَحُضُّ کے معنے ہو ں گے وہ آمادہ نہیں کرتا۔ترغیب نہیں دلاتا۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دَعَّ کا لفظ نہیں استعمال کیا حَضَّ کا لفظ استعمال کیا ہے یہ نہیں کہا کہ