تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 568

نہیں کرے گا اور وہ یوں ہی ضائع ہوجائے گی۔یہ خیال جب ان کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے تو وہ قربانی کرنے سے رک جاتے ہیں۔پس اگر یتیم کی طرف توجہ کی جائے تو اس سے قوم کے اندر ایثار کا مادہ بڑھ جاتا ہے حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کی قربانی کا معیار اس کے یتامیٰ کی خبر گیری کے مطابق ہوتا ہے۔جتنا یتامیٰ کا خیال کسی قوم میں ہوگا اتنا ہی زیادہ ایثار کا مادہ اس کے افراد میں پایا جائے گا۔یتامیٰ کی خبر گیری مذہبی طور پر ہی نہیں کی جا تی دنیوی طور پر بھی کی جاتی ہے۔یورپ میں یتامیٰ کی بڑی خبر گیری کی جاتی ہے۔بعض لوگ اپنی جانیں قربان کر کے یتامیٰ کی خبر گیری کرتے ہیں۔اپنے آپ کو یتامیٰ کی خبر گیری کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔بڑے بڑے یتیم خانے کھولتے ہیں اور اپنے روپے سے اور بعض دفعہ چندہ اکٹھا کر کے بھی یتامیٰ کی پرورش کرتے ہیں مگر ہمارے ملک میں یتیم خانے روٹی کمانے کے لئے کھولے جاتے ہیں اور بچوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔درحقیقت کسی قوم کا معیار قربانی اس وقت تک نہیں بڑھ سکتا جب تک اس میں یتامیٰ کی خبرگیری کا انتظام نہ ہو۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس ضرورت کا یہاں خاص طور پر ذکر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین کامنکر ہے یعنی دین کے کسی معنے کا بھی منکر ہے وہ فردی اور قومی نیکیوں سے محروم ہو جاتاہے جن میں سے ایک یتامیٰ کی خبرگیری اور دوسری مساکین کی امداد ہے۔لیکن جو دین کو مانتا ہے اس کے اندر فردی پاکیزگی اور قومی خدمت کا جذبہ پایا جاتا ہے وہ علاوہ اور نیکیوں کے اس امر کی اہمیت کو بھی سمجھتا ہے کہ اگر یتامیٰ کے ساتھ بدسلوکی کی گئی تو اس کا نتیجہ اس کو اور اس کی اولاد کو بھی بھگتنا پڑے گا ایسا آدمی کبھی بھی یتامیٰ کے ساتھ بدسلوکی نہیں کر سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یتامیٰ کی خبر گیری کی طرف خاص توجہ دی جاتی تھی۔مشرکین مکہ مارے جاتے تھے تو ان کے یتیم بچوں کی کوئی دیکھ بھال نہیں کرتا تھا۔مگر مدینہ کے لوگ اپنے یتامیٰ کو سر پر اٹھا لیتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ مدینہ کے لوگ ایثار اور قربانی سےڈرتے نہیں تھے۔انہیں یہ فکر نہیں تھا کہ ہم مارے گئے تو ہمارے بچوں کی نگہداشت کون کرے گا مگر مکہ والےلوگ ڈرتے تھے اس لئے کہ ا ن کے بعد ان کے بچوں کی پرورش کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔آج کل کثرت سے ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بیوہ عورت سے کوئی شادی نہیں کرتا مگر اس زمانہ میں کیا ہو تا تھا۔ادھر بیوہ کی عدت گذری اور ادھر اس کے اور ا س کے بچوں کی پرورش کے خیال سے لوگوں نے ان سے شادی کی درخواست پیش کر دی خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثر بیواؤں سے شادی کی اور یتامیٰ کی پر ورش کی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نو جوان سے پو چھا کہ تو نے نو جوان لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی۔تو اس نے جواب دیا۔یا رسول اللہ میرے بھائی کے یتیم بچے تھے ان کی پر ورش کے لئے تجربہ کار