تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 561
ہوں تو بعض کو اس مضمون کا جس کا ذکر اس آیت میں ہے علم ہوگا اور بعض کو علم نہیں ہو گا۔پس جب متعدد مخاطبین کا علم اس مضمون کے بارہ میں مختلف ہو نا ممکن ہے تو یہ آیت متکلم یعنی اللہ تعالیٰ کے شک پر دلالت نہیںکرتی بلکہ مخاطبین کی مختلف حالتوں پر دلالت کرتی ہے اور مطلب یہ ہے کہ اے مخاطب کہ اگر تو اس سوال کا جواب نہیں جانتا تو اس کا جواب یہ ہے۔اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ جیسے کہ بتایاجا چکا ہے اَرَءَیْتَ میں ہمزہ استفہام کا نہیں بلکہ توکید کا ہے اور محاورہ میں اس کے معنے ہیں مجھے بتا تو سہی۔پس جب اس جگہ سوال کیا ہی نہیں گیا تو اللہ تعالیٰ کے متعلق شک کا الزام پید اہی نہیں ہو تا۔اَرَءَیْتَ میں مخاطب صرف آنحضرتؐنہیں اس جگہ یہ امر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ گو اَرَءَیْتَ میںحرف تاء استعمال کیا گیا ہے جوضمیر مخاطب واحد ہے مگر اس سے مراد بہت سے افراد ہیں جیسا کہ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا (بنی اسـرآءیل :۲۴) یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر تیرے ماںباپ بوڑھے ہوجائیں تو تُو انہیں اُف تک مت کہیو اور انہیںمت جھڑکیو۔ظاہر ہے کہ یہ لفظی معنے بالکل غلط ہیں کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یتیم تھے بلکہ ان کی والدہ بھی ان کے بچپن میں فوت ہو گئی تھیں اور قرآن کریم میں سورۃ وَ الضُّحٰى میں آپ کے یتیم ہو نے کا ذکر آتا ہے۔پس آیت فَلَا تَقُلْ میں خطاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں اور جب آپ سے خطاب نہیں تو لازماً سب مسلمانوں سے خطاب ہے۔اور ضمیر واحد لانے کی وجہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کو فرداً فرداً مخاطب کیا گیا ہے تاکہ مضمون پر خاص زور پڑے اور مطلب یہ ہے کہ اے زید تو بھی اور اے بکر تو بھی اس حکم کو غور سے سن لے کہ اگر تیرا باپ اور تیری ماں بوڑھے ہو جائیں اور بڑھاپے سے ان کا مزاج چڑچڑا ہو جائے تو تُو ان کے غصہ کو برداشت کر لیا کر اور ان کی باتوں کو سن کر اتنا بھی نہ کہا کر کہ ’’بس جانے دیجئے‘‘ غرض کبھی کبھی مفرد کا لفظ جمع کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور اس وقت تمام افراد انسانی یا افراد قوم فرداً فرداً مخاطب ہو تے ہیں اسی قاعدہ کے مطابق اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ میں بھی فرداً فرداً تمام مسلمان یا تمام انسان مراد ہیں اور کہا گیا ہے کہ جو جانتا ہے وہ بھی یاد رکھے اور جو نہیں جانتا وہ بھی جان لے کہ تکذیب دین کرنے والامختلف گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے حوفی جونحو کے علماء میں سے ہیں کہتے ہیں کہ اس جگہ ہمزہ انکار کا نہیں بلکہ تاکید کا ہے(بحر محیط زیر آیت ھذا) (میں اس کے بارہ میں پہلے لکھ چکا ہوں) اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ کیا تو نے وہ شخص دیکھا ہے جو تکذیب دین کرتا ہے یعنی تجھے یقیناً معلوم ہے کہ تکذیب دین کرنے والا کون ہے۔ہم اس کے انجام کی تجھ کو خبر دیتے ہیں کہ وہ قسم قسم کے گناہوں