تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 562

میں مبتلا ہو جائے گا ان معنوں کے رو سے یہ آیت ایک پیشگوئی پر مشتمل سمجھی جائے گی۔اور اس طرف اشارہ سمجھا جائے گا کہ اسلام کی مخالفت کرنے والے قسم قسم کے گناہوں میںمبتلا ہوجائیں گے اور ایسا ہی ہوا۔یتیم کو دھتکارنا اور اس سے بد سلوکی کرنا قرآن کریم کے نزدیک بد ترین اعمال میں سے ہے۔اللہ تعالیٰ بار بار قرآن کریم میں اس کا ذکر فرماتا ہے۔مثلاً اَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَاتَقْھَرْ(الضحٰی:۱۰) قرآن کریم میں یتیم کے متعلق جتنے بھی لفظ آئے ہیں وہ دھتکارنے، رد کرنےاور دبا دینے کے آئے ہیں۔اس پر ایک سوال پیدا ہو تا ہے کہ یہ تعلیم کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یتیم ہو نے کا ردّ عمل تو نہیں؟اور یہ سوال ان لوگوں نے اٹھایا ہے جن کے نزدیک قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کی آواز ہے، خدا تعالیٰ کی آواز نہیں اور ایسے لوگ دو قسم کے ہیں بعض لوگ مسلمان ہیں اور بعض غیر مسلمان۔جومسلمان ہیں وہ کہتےہیں کہ چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت پاک اور منزّہ تھی اس لئے جب آپ نے دنیا کی خرابیوںکو دیکھا تو ان کے خلاف آپ کے دل میں جوش پیدا ہو گیا۔آپ نے احتجاج کیا اور ان کے خلاف آواز اٹھائی اور یہی آواز جو آپ کی نیک اور پاک فطرت کی طرف سے اٹھائی گئی تھی اللہ تعالیٰ کی آواز تھی دوسری قسم کے لوگ جو غیر مسلم ہیں وہ کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذہین اور ہو شیار آدمی تھے۔جب آپ نے دنیا میں مظالم دیکھے، خرابیاں اور برائیاں دیکھیں تو آپ کے اندر ان کا ردّ عمل پیدا ہو گیا اور ان سے متاثر ہو کر جو باتیں آپ نے کہیں وہ قرآن کریم ہے لیکن آپ اپنے خیال میں نعوذ باللہ من ذالک بوجہ کمی علم کے اسے خدا تعالیٰ کی آواز سمجھ کر کہتے تھے کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتا ہے۔ورنہ الہام وغیرہ کوئی نہیں ہو تا تھا۔آپ ذکی الحس تھے، حاد الطبیعت تھے اور آپ کی فطرت صاف تھی۔پس آپ کی صاف فطرت نے اچھی باتیں پیدا کرلیں اور آپ نے خیال کر لیا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سےہیں۔پس یہاں یہ اعتراض ہو تا ہے کہ آپؐجوبار بار کہتے ہیں کہ یتیم کی خبر گیری کرو، یتیم کی خبر گیری کرو۔تو کیا آپ کے یتیم ہو نے کا یہ ردّ عمل تو نہیں۔ہرایک چیز کا ایک ردّ عمل ہوتا ہے اسی ردّ عمل کے نتیجہ میں بعض دفعہ انسان اس کے الٹ کام کرتا ہے اور بعض دفعہ اس کے مطابق کام کرتا ہے۔بعض لوگ دیکھتے ہیں کہ دنیا کے بہت سے لوگ ظلم کرتے جارہے ہیں وہ بھی اس ماحول سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ان کی طبائع میں اس کا ردّ عمل اس طرح پیدا ہو تا ہے کہ وہ بھی ظلم کرنے لگ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ہم سب ظالموں سے بدلہ لے رہے ہیں اور بعض دفعہ ایسا ہو تا ہے کہ جب وہ مظالم کو دیکھتے ہیںتو انصاف کی روح ان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے، ظلم کے خلاف ان کے اندر جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس کے خلاف ہر ممکن قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔غرض علم النفس کے ماتحت انسان کے اندر جو ردّ عمل