تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 556
لیکن اس کی رائے غلط ہے۔مومن جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تدبیر کا راستہ کھلا رکھاہے۔تدبیر سے انسان بدیوں پر غالب آسکتا ہے۔اگر تدبیر کا راستہ کھلا نہ ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لاحول، استغفار اور تعوّذ کیوں سکھاتا یہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسی لئے سکھائی ہیں کہ تدبیر کا راستہ ہر وقت کھلا ہے۔جو کوئی بھی تدبیر کرے گا اوراپنے نفس کی اصلاح کرے گا وہ ضروربدی پر غالب آجائےگا۔دین کے بارھویں معنے شاْن کے (۱۲) بارھویں معنے دین کے شَاْن کے ہیں۔شَاْن کے معنے ہوتے ہیں بڑا کام۔اَلْـخَطْبُ الْعَظِیْمُ بہت بڑی مہم (اقرب) اَلْـحَالُ وَالْاَمْرُ الَّذِیْ یَتَّفِقُ وَ یَصْلُحُ وَلَا یُقَالُ اِلَّا فِیْـمَا یَعْظُمُ مِنَ الْاَحْوَالِ وَ الْاُمُورِ (مفردات) جس کام میں ناکامی ہو اسے شاْن نہیں کہیں گے۔بلکہ ہر وہ کام جس میں کامیابی کے لئے مواد بہم پہنچ جاتا ہے اور وہ ہو جایا کرتا ہے شاْن کہلاتا ہے۔شاْن کا لفظ کبھی چھوٹے کام پر نہیں بولا جاتا ہمیشہ بڑے کام کے لئے بولا جاتا ہے۔پس شاْن کے معنے ہوئے بڑی حالت یا وہ بڑا کام جو ضرور پورا ہو کر رہنے والا ہو۔قرآن کریم میں انہی معنوں میں یہ لفظ استعمال ہو تا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ (الرحمٰن:۳۰) ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ ایک خاص ارادہ کرتا ہے اور وہ جو ارادہ کرتا ہے اس کے لئے سامان بھی ضرور پیدا کرتا ہے اور ا س میں اسے ہمیشہ کامیابی ہو تی ہے۔کُلَّ یَوْمٍ سے مراد انبیاء کا زمانہ ہے۔یہ آیت سورۂ رحمٰن میںہے اس سے پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور پہلے انبیاء کے زمانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ اس نے دنیا کوانبیاء کے زمانوں میں تقسیم کردیا ہے اور ہر نبی کے زمانہ کے متعلق وہ ایک تقدیر جاری کرتا ہے جو اسی طرح پو ری ہو کر رہتی ہے اور اس سکیم کے منکر یا اس سے منہ پھیرلینے والے( ابتدائی زمانہ میں منکر اس کے مخاطب ہوتے ہیں درمیانی اور آخری زمانہ میں اس سکیم پر بظاہر ایمان لانے والے لیکن عملاً رو گردانی کرنے والے) خدا تعالیٰ کی گرفت میں آتے ہیں۔پس اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ۔فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ کے یہ معنے ہوں گے کہ مجھے بتا تو سہی اس شخص کا حال جو اس بات سے انکار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر زمانہ میں ایک نئی سکیم جاری کرتا ہے اور اس زمانہ میں جو سکیم جاری کی گئی ہے وہ محمدی سکیم ہے۔اگر کوئی شخص اس زمانہ کی سکیم یعنی محمدی سکیم کامنکر ہے توتُو دیکھے گا کہ اس میں ہر طرح کی بدی پائی جائے گی اور ایسا شخص مختلف قسم کے گناہوں میں مبتلا ہو گا۔ویسے تو خدا تعالیٰ ہر زمانہ میں ہی اپنی قدرت کا اظہار کرتا رہتا ہے لیکن انبیاء کے زمانہ میں وہ خاص طور پر اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے اور ان کے ذریعہ ایک خاص سکیم کو جاری کرتا ہے خواہ دشمن کتنے ہی روڑے کیوں نہ