تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 555
میں بعض کو وکٹوریہ کراس مل جاتے ہیں اور جرمنی میں آئرن کراس۔پس حقیقت یہی ہے کہ جو شخص سچی کوشش کرتے کرتے مرجائے گو وہ اپنی کوشش میں پو ری طرح کامیاب نہ ہو وہ دوزخ میں نہیںجائے گا وہ تو خدا تعالیٰ کا سپاہی تھا جو لڑتے لڑتے مر گیا۔وہ اپنی مرضی سے تو نہیں مرا۔اس نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ مجھے موت آجائے۔وہ الٰہی قانون کے مطابق لڑتا ہوا مرا ہے۔وہ ایسا ہی سمجھا جائے گا جیسے وہ مومن ہو نے کی صورت میں مرا۔سپاہی جو لڑتے ہوئے مارا جائے وہ قابل تعریف ہو تا ہے یا قابل سزا ؟ جب وہ قابل تعریف ہو تا ہے قابل سزا نہیں ہو تا تو پھر جو شخص خدا تعالیٰ سے ملنے کی کوشش کرتا ہوا مر جاتا ہے اسے خدا تعالیٰ دوزخ میں کیوں ڈالےگا۔احادیث میں آتا ہے کوئی شخص تھا جس نے نناوے قتل کئے تھے وہ توبہ کے لئے کسی عالم کے پاس گیا اور اس سے جا کر کہا کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے اس نے کہا تیری توبہ قبول نہیں ہو سکتی۔اس شخص نے کہا اگر میری توبہ قبول نہیں ہوسکتی تو میں تجھے بھی مار دوں گا۔ایک گناہ اور زیادہ ہو گیا تو کیا ہوا۔یہ کہہ کر اس نے اس عالم کو قتل کر دیا۔اسی طرح اس نے ایک ایک کرکے بہت سے علماء کو مار دیا۔ایک دفعہ کوئی شخص اسے ملا جس نے اسے بتایا کہ فلاں جگہ پر فلاں عالم ہے وہ کہتا ہے کہ ہر ایک کی توبہ قبول ہو تی ہے۔تم اس کے پاس جاؤ۔وہ شخص اس کے پاس جا ہی رہا تھا کہ رستہ میں ہی مر گیا۔اس کی موت پر فرشتوں کا آپس میں جھگڑا ہو گیا۔(یہ سب تمثیلی زبان کی بات ہے ) بہر حال احادیث میں آتا ہے کہ فرشتوں کا آپس میں جھگڑا ہوگیا۔دوزخ والے فرشتے کہتے تھے کہ یہ شخص دوزخی ہے اسے توبہ ابھی نصیب نہیں ہوئی اور جنت والے فرشتے کہتے تھے کہ یہ شخص جنتی ہے کیونکہ یہ توبہ کرنے کے لئے جا رہا ہے کہ رستہ میں مرگیا۔آخر دوزخ اور جنت دونوں کے فرشتے خدا تعالیٰ کے پاس فیصلہ کرانے کے لئے پہنچے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا زمین ناپو جس طرف سے یہ شخص توبہ کرنے کے لئے چلا تھااگر وہ جگہ قریب ہے تو یہ دوزخی ہے اور اگر وہ جگہ جہاں یہ توبہ کرنے کے لئے جا رہا تھا قریب ہے تو یہ جنتی ہے۔روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی طنابیں کھینچ دیں اور اس جگہ کو جہاں وہ توبہ کرنے کے لئے جا رہا تھا زیادہ قریب کر دیا۔فرشتوں نے دونوں طرف کی زمین کو ناپا اور خدا تعالیٰ سے آکر کہا کہ جس طرف یہ شخص تو بہ کر نے کے لئے جا رہا تھا وہ زمین چھوٹی ہے خدا تعالیٰ نے حکم دیا پھر اسے جنت میں لے جاؤ(مسلم کتاب التوبۃ باب قبول توبۃ القاتل)۔اس تمثیل میں اس امر کو ظاہر کیا گیا ہے کہ جو نجات کی کوشش کرتے ہوئے مر جاتا ہے اگر وہ گناہوں پر غالب آنے میں کامیاب نہ ہوا ہو تب بھی وہ جنتی ہی ہے بشرطیکہ جذبۂ صادق اور جدو جہد صحیح اور معیاری ہو لیکن جو شخص تدبیر اور کوشش کا ہی منکر ہو تو ا س کے بارہ میں آیت زیر تفسیرمیں فرماتا ہے کہ تُو اسے دیکھے گا کہ وہ بدیوں میں مبتلا ہو جائے گا۔وہ سمجھ لے گا کہ میرے لئے اب بدیوں کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے