تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 543
ہوجائے گی اور رفتہ رفتہ وہ بدی بالکل چھٹ جائے گی۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ عادت کی نیکی کوئی نیکی نہیں وہ بھی کوئی نیکی ہے جس کی عادت پڑ جائے۔لیکن یہ غلط بات ہے۔عادت کی نیکی بعض دفعہ توبے شک نیکی نہیں ہو تی لیکن بعض دفعہ ہو تی ہے۔در اصل یہ دو الگ الگ مواقع ہیں جن کی وجہ سے عادت کی نیکی بعض دفعہ نیکی بن جاتی ہے اور بعض دفعہ نیکی نہیں رہتی۔جب انسان کو اپنی سمجھ بوجھ کے زمانہ سے پہلے کسی چیز کی عادت پڑے اور پھر اسے اس عادت پر غور کرنے اور اس کی حقیقت کو سمجھنے کا کبھی موقع نہ ملا ہو تو وہ نیکی نیکی نہیں کہلاتی مثلاً اگر کسی شخص کو بچپن سے سچ بونے کی عادت ہے یا نماز پڑھنے کی عادت ہےاور بعد میں اسے سچائی اور نماز پر غور کرنےکا موقع نہیں ملا اور وہ ان نیکیوں کو علیٰ وجہ البصیرت نہیں بلکہ محض عادت کی وجہ سے بجا لاتا ہے تو اس کی یہ نیکیاں محض عادتی نیکیاں قرار پائیں گی۔لیکن جو شخص کسی بات کو سمجھتے ہوئے اس کی عادت ڈالتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ میں اپنے اندر نیکی کو قائم کروںاور بدی سے بچوں تو وہ اس کی محنت کا ثمرہ اور پھل ہے اور اچھا کام کرنے پر انعام تو ملا ہی کرتا ہے مثلاً جو انسان ابتدا سے جھوٹ بولنے کا عادی ہے اور جس کی گھٹی میں جھوٹ بولنا داخل ہے وہ جب کوشش کرے گا کہ میں آئندہ سچ بولوں تو یہ لازمی بات ہے کہ اسے تکلیف ہو گی لیکن جب پندرہ بیس دفعہ اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر وہ سچ بو لے گا تو اس کے بعد سچ بولنے کی عادت اس میں پیدا ہو جائے گی۔اور وہ نتیجہ ہو گا اس کی محنت کا اور جو پھل کسی کی محنت اور کوشش کا ہو اس سے وہ محروم نہیں کیا جاسکتا۔پس جس بدی کا ترک انسان نے محنت سے کیا ہواور جس نیکی کے بار بار اور بالارادہ کرنے کی وجہ سے انسان کو اس کی عادت ہوگئی ہو وہ نیکی ایک قابل قدر نیکی ہے۔پس یہ غلط بات ہے کہ عادت کی نیکی نیکی نہیں ہوتی۔جب یہ عادت زور سے پیدا کی جائے گی اور اس کے لئے محنت اور کوشش کی جائے گی تو اس کا جو نتیجہ پیدا ہو گا اس سے وہ محروم نہیں کیا جا سکتا۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص دعا کرتے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئےسو جاتا ہے اس کی ساری رات ہی عبادت اور دعا میں بسر ہو تی ہے۔در اصل ہر انسان کے اندر ایک نفس مکتوم یعنی SUBJECTIVE MINDہوتا ہے جو دماغ کے خزانہ کے طور پر کام کرتا ہے جب انسان دعا کرتے ہوئے سوتا ہے تو گو بظاہر وہ سویا ہوا ہوتا ہے مگر اس کا نفس مکتوم کا م کر رہا ہو تا ہے یہ دعا اس کے ارادہ کے ماتحت نہیں ہو تی او ربظاہر ا س کا ثواب اسے نہیں ملنا چاہیے لیکن چونکہ یہ اس کی جاگنے والی دعا کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اس لئے اس کا ثواب اسے ضرور ملے گااور ملتا ہے۔دین کے دسویں معنے قضاء کے (۱۰)دین کے دسویں معنے قضاء کے ہیں۔اس لحاظ سے اَرَءَیْتَ الَّذِیْ