تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 544
یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ کے یہ معنے ہوں گے مجھے بتا تو سہی اس شخص کا حال جو قضاء کا انکار کرتا ہے۔(یہی جو انکا رکرتا ہے)تو ا سے دیکھے گاکہ وہ یتیم کو دھتکار تا ہے (یَدُعُّ الْیَتِیْمَ ) سیاق و سباق سورۃ کے لحاظ سے قضاء کے معنے اس جگہ قضائے الٰہی کے ہیں یعنی کون ہے وہ شخص جو قضائے الٰہی کا انکار کرتا ہے۔مگر قضائے الٰہی سے مراد وہ قضائے الٰہی نہیں جس کا آج کل مسلمانوں میں خیال پایا جاتا ہے یا جس کا دوسرے مذاہب میں عقیدہ پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مجبور پیدا کیا ہے۔اسے مومن یا کافر، عالم یا جاہل، اندھایا آنکھوں والا، کمزور یا طاقتور خود بنا دیا ہے۔اور وہ اپنی حالت کو بدل نہیں سکتا۔اگر یہاں وہی قضاء مراد لی جائے جس کا آج کل مسلمانوں میں عقیدہ پایا جاتا ہے یا جو دوسرے مذاہب میں اس سے مراد لی جاتی ہے تو اس آیت کے کوئی معنے نہیں رہتے۔جب انسان پیدا ہی مجبور کیا گیا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون پر چل رہا ہے۔اور ا سے توڑ نہیں سکتا۔تو اس آیت کے معنے ہی کیا ہوئے کہ مجھے بتا تو سہی وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے کیسا مجرم ہے یہ معنے بالکل بےجوڑ ہوجاتے ہیں در حقیقت یہاں قضاءِ الٰہی سے مراد وہ قضاءِ الٰہی ہے جو قرآن کریم پیش کرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذّٰاریٰت :۵۷) کہ میں نے جنّ و انس کو ایک خاص مقصد کے لئے پید اکیا ہے۔اور وہ مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے بن جائیں۔اب لِیَعْبُدُوْنِ سے ظاہری عبادتیں تو مراد نہیں بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ایسے بن جائیں کہ حقیقی طور پر خدا تعالیٰ ان کے دل میں آجائے۔اگر لِیَعْبُدُوْنِ سےظاہری عبادتیں مراد ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا ہے فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَ کہ لعنت ہے ان نماز پڑھنے والوں پر جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ا س سے معلوم ہو تا ہے کہ بعض نمازیں ایسی بھی ہو تی ہیں جو پڑھنے والے کے لئے لعنت کا موجب ہوتی ہیںاور بعض نمازیں ایسی ہوتی ہیں جو اس کے لئے رحمت کا موجب ہو تی ہیں پس آیت مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ میں لِیَعْبُدُوْنِ سےمراد ظاہری عبادات نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات انسان کے اندر جاگزیں ہو جائیں اور وہ خدا تعالیٰ کا صحیح مظہر اورنمونہ بن جائے یہی مقصد تھا جس کے لئے خدا تعالیٰ نے جنّ و انس کو پیدا کیا اور یہی ایک تقدیر الٰہی ہے اور اسی کی طرف مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ کی آیت میں اشارہ ہے یعنی ہر انسان جو دنیا میں پیدا ہوا ہے وہ محض اسی لئے پیدا ہوا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا عبد بن جائے، اللہ تعالیٰ کا بندہ بن جائے اور یہ قانون حصر کے طور پر بیان ہوا ہے۔کیونکہ عربی زبان کا یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی جملے میں مَا اور اِلّا آجائیں تو وہ حصر کے معنے دیتا ہے پس مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ کے معنےعربی زبان کے قواعد کے لحاظ سے یہی بنتے ہیں