تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 542
چونکہ یہ شریفوں میں پلا ہے اس لئے اسے دکھ ہوا ہے کہ میرے ساتھ ایسا گندہ مذاق کیوں کیا گیا ہے۔بیوی نے کہا اس سے بھی تو پوچھ دیکھو کہ یہ کیوںرورہا ہے انہوں نے لڑکے سے پوچھا کہ تو کیوں رو تا ہے تو اس نے جواب میں کہا کہ آپ تو دو دو کھائی ہیں اور میرے لئے ایک ہی رکھی ہے۔بیوی کہنے لگی دیکھا تخم تاثیر کتنی طاقت رکھتا ہے کہ اتنے لمبے عرصہ کے بعدبھی اس میراثی کی طبیعت نہیں بدلی۔حقیقت یہ ہے کہ طبعی امور اپنے اندر بڑی طاقت رکھتے ہیں لیکن طبیعت کو کسی بات سے ہٹانے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو وہ عادت ہے اگرعادت کا حربہ نہ ہو تا تو انسان کہتا میری طبیعت میں نرمی ہے اس لئے میں سختی والے کام نہیں کر سکتا یا میری طبیعت میں سختی پائی جاتی ہے اس لئے میں نرمی سے کام نہیں لے سکتا۔حضرت عمر ؓ وہ شخص تھے جو بات بات پر تلوار نکال لیا کرتے تھے۔بعض دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کہہ دیتے کہ یا رسول اللہ آپ فلاں شخص کے متعلق اگر ذرا بھی اشارہ کر دیتے تو میں اسے قتل کر دیتا۔مگر پھر یہی عمر ؓ تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سنتے سنتے اتنے نرم دل ہو گئے کہ صحابہؓ کہتے ہیں اپنی خلافت کے زمانہ میں ہم نے عمرؓ سے زیادہ با ت بات پر رونے والا اور کوئی شخص نہیں دیکھا۔طبیعت وہی تھی لیکن عادت کے ساتھ حضرت عمرؓ نے اس کو دبا لیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم مانتے ہیں کہ ماں باپ کے اثر، گندے ماحول اور خراب تعلیم سے کئی قسم کی خرابیاں پید اہو جاتی ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں ہم نے عادت کی خوبی بھی رکھی ہے جس چیز کی تم عادت ڈال لو وہی چیز تمہارے لئے آسان ہو جائے گی فطرت انسانی کڑواہٹ کو نا پسند کرتی ہے، شراب کڑوی ہو تی ہے لیکن پندرہ بیس دن شراب پینے کے بعد ایسی عادت ہو جاتی ہے کہ اس کی کڑواہٹ ذرا بھی بری محسوس نہیں ہو تی اور لوگ اس کے پینے میں لذت محسوس کرتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم کو یاد رکھنا چاہیے کہ بدیاں مٹانے کے لئے ہم نے عادت کا حربہ پیدا کیا ہوا ہے۔جو چیزیں تمہاری فطرت کےمطابق ہیں وہ تو ہیں ہی، جو خلاف ہیں ان کی عادت ڈال لو۔ایک ایک بدی لے کر اس سے بچنے کی عادت اپنے اندر پیدا کر لو نتیجہ یہ ہو گا کہ عادت غالب آ جائی گی۔پھر دوسری بدی کو پکڑ لو وہ دور ہو جائے تو تیسری بدی کو پکڑلو۔اس طرح رفتہ رفتہ تمام بدیاں دور ہو جائیں گی۔اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہر رمضان میں کسی ایک بدی کو دور کرنے کا تم عہد کر لو۔اور جہاں تم خدا کے لئے کھانا پینا چھوڑتے ہو وہاں ایک بدی بھی چھوڑ دو۔دوسرا رمضان آئے تو دوسری بدی چھوڑنے کا عہد کر لو۔اس طرح چند رمضان کے مہینوں میں کئی بدیاں چھٹ جائیں گی یہ بھی دراصل عادت ڈالنے والی ہی بات ہے جب انسان عہد کرے گا کہ اس مہینہ میں مَیں نے فلاں کام نہیں کرنا تو اس کے نہ کرنے کی عادت