تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 538

ہوجاتا ہے کہ نیکی کرنا اسے ایسا ہی معلوم ہو تا ہے جیسے سمندر کی مچھلی کو خشکی میں پھینک دیا جائے۔نیکی کے میدا ن میں اگر اسے لایا جائے تو اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں اور وہ ایک قدم بھی چلنے کی اپنے اندر طاقت نہیں پاتا۔یہ عادتوں ہی کا اثر ہوتا ہے ورنہ اور کوئی بات نہیں ہو تی۔سپاہی ہمارے ملک کا ایک اہم ترین حصہ ہے لیکن سپاہی کیوں بہادر سمجھا جاتا ہے اسی لئے کہ اسے ہتھیار چلانے کی عادت ہو تی ہے۔واٹر لو میں جب نیپولین کی انگریزوں سے جنگ ہوئی تو ایک بہت ہی چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے نیپولین کی فوجوں کو شکست ہو گئی۔نیپولین کا ایک جر نیل تھا جو تھا تو بڑا بہادر مگر اس سے ایک غلطی ہو گئی۔اسے آ گے بڑھ کر واٹر لو کی پہاڑی پر قبضہ کرنےکا حکم تھا وہ منزل مارتا ہوا وہاں پہنچا تو سپاہیوں پر ترس کھا کر اس نے انہیں پہاڑی کے نیچے آرام کرنے کا حکم دے دیا۔اور سمجھا کہ صبح پہاڑی پر قبضہ کر لیں گےمگر نیپولین کو کہلا بھیجا کہ پہاڑی پر قبضہ ہو گیا ہےرات کو برطانوی فوجوں نے واٹر لو کی پہاڑی پر قبضہ کر لیا۔صبح جرنیل نے یہ حال دیکھا تو اپنی بات سچی کرنے کے لئے متواتر انگریزی فوج پر حملےکئے مگر کامیا ب نہ ہوا بلکہ اپنی فوج تباہ کر لی۔صبح نیپولین پہنچا تو مجبوراً اسے لڑنا پڑا مگر پہاڑی کی وجہ سے اس کی فوج غالب نہ آسکی۔جس فوج کو پہاڑی پر قبضہ کرنے کے لئے بھجوا یا گیا تھا نیپولین کی خاص پسندیدہ فوج تھی۔جب بار بار حملوں سے اس فوج کا گولہ بارود ختم ہو گیا خود بڑے لشکر کو بھی شکست ہو گئی تو ایک افسر اس فوج کے پاس سے گذرا اور ان سے کہا کہ فوج کو شکست ہو گئی ہے تم کیوں نہیں بھاگتے تو انہوں نے کہا کہ نیپولین نے ہمیں بھاگنا سکھایا ہی نہیں۔(Nepoleon as Military commander, General Sir James Marshall۔Cornwall B۔t P۔62,96) مطلب یہ تھا کہ نیپولین نے ہمیں لڑنے کی عادت ہی ڈالی ہے بھاگنے کی نہیں۔غرض عادت دنیا کی اہم ترین طاقتوں میں سے ایک طاقت ہے وہ چیز جسے ماحول کےمطابق ہوجانا کہتے ہیں درحقیقت عادت کاہی دوسرا نام ہے۔جب پودوں کو ایک خاص زمین میں کچھ مدت رہنے کی عادت ڈال دی جاتی ہے تو وہ پودے اس زمین کے ساتھ ایک خاص مناسبت پیدا کر لیتے ہیں اور زیادہ بہتر فصل پیدا ہونے لگتی ہے اور وہ پودے اس ملک کے لحاظ سے کچھ نئی خصوصیات بھی پیدا کرلیتے ہیں۔یہی حال جانوروں کا ہے۔اسی طرح جب انسانوں کو نئی قسم کی عادتیں ڈال دی جائیں تو نئی قسم کے انسان پیدا ہو نے لگ جاتے ہیں۔اگر عادت کے قانون پر لوگ غور کریں اور اعلیٰ درجہ کی عادات اپنےاندر پید اکرنے کی کوشش کریں تو یقیناً آئندہ نسلیں نہایت اعلیٰ درجہ کی پید اکی جا سکتی ہیں۔یقیناً انسان برتر (جسے امریکن super man کہتے ہیں) پیدا کئے جا سکتے ہیں بشرطیکہ لوگ عادت کے فلسفے پر غور کریں اور اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔مگر افسوس ہے کہ لوگ اپنی نسلوں کوخودرَو پودوں کی طرح بغیرکسی حفاظت اور نگرانی