تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 539
کے چھوڑ دیتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ باپ اچھا ہو تا ہے تو بیٹا خراب ہو جاتا ہے۔پھر عادتیں پیدا ہوتی ہیں سوسائٹی سے اچھے سے اچھا آدمی بھی اپنی اولاد کی تربیت میں قطعی طور پر ناکام رہے گا اگر اس کاماحول اچھا نہیںاور اگر اس کے ارد گرد رہنے والے اعلیٰ درجہ کے اخلاق اور اعلیٰ درجہ کی عادات اپنے اندر رکھنے والے نہیں اگر ساری قوم مل کر اپنی عادتوں کی اصلاح کرے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آئندہ نسل ایسی اعلیٰ درجہ کی پیدا ہو گی جس کا چلن نہایت مضبوط ہو گا۔جس کے اخلاق نہایت بلند ہوں گے اور جس کا جذبہ ٔملّت اتنا اعلیٰ درجے کا ہو گا کہ دنیا کی کوئی قوم اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکے گی۔یوروپین قوموں کے سکولوں میں اس امر کو خصوصیت سے مدّ ِنظر رکھا جاتا ہے اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے قومی چلن کو ترقی دیں۔یورپ کے لوگ جب بھی انصاف کا ذکر کریں گے ہمیشہ کہیں گے یہ کرسچن سویلیزیشن ہے یاکرسچن سویلیزیشن کا تقاضا یوں ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آج کل یورپ جس اعلیٰ مقام اخلاق پر پہنچا ہوا ہے اس کے رو سے ایسا ہو نا ضروری ہے حالانکہ وہ اعلیٰ مقام اخلاق تو کیا ابھی اس مقام کے ادنیٰ ترین معیار تک بھی نہیں پہنچا جو اسلام نے مقرر کیا ہے مگر بار بار کر سچن سویلیزیشن کی اصطلاح استعمال کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ بعض مسلمان بھی دوران جنگ میں تقریریں کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ جرمن کرسچن سویلیزیشن کے خلاف چل رہا ہے حالانکہ ان بے چاروں نے انجیل کبھی کھول کر بھی نہیں دیکھی تھی مگر کرسچن سویلیزیشن کا شور مچاتے چلے جاتے تھے۔غرض یوروپین قومیں اپنی قومیت کی برتری ثابت کرنے کے لئے نوجوانوں میں احساس برتری پیدا کرتی رہتی ہیں اور ا سی احساس کی بیداری کے لئے انہوں نے یہ اصطلاح قائم کی ہے مگر بعض احمق مسلمان بھی ان کی نقل کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے اخلاق برے ہیں اور ان کے اخلاق اچھے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ عادت ایک بڑی طاقت ہے جو قومیں اس نکتہ کو سمجھتی ہیں وہ بہت بڑا فائدہ اٹھا لیتی ہیں اور جو اس کو نہیں سمجھتیں وہ نوجوانوں کو بغیر نگرانی کے چھوڑ دیتی ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آوارہ ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جو فرد اس نقطہ کو سمجھے گا کہ نیکی کی عادت ایک عظیم الشان نعمت ہے وہ اس سےزیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا اور جو اس نکتہ کو کوئی وزن نہیں دے گا وہ نیکیوں سے محروم ہو جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ جب انسان کو خدا تعالیٰ نے اس دنیا میں پیدا کیا تو اس نے ہزاروں ہزار نیکیاں پیدا کردیں اور ان نیکیوں کا غلط استعمال بدیاں بن گیا جب ہم افراد کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہو تا ہے کہ ان کا بھی بعض نیکیوں پر قبضہ