تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 528
ایک ہندو کے دل میں بھی پیدا ہو جاتی مگر نہیں پیدا ہوتی۔جس کے معنے یہ ہیں کہ طبیعت میں کوئی خاص مادہ نہیں بلکہ جو کچھ ہے عادت اور رسم و رواج کی وجہ سے ہے۔چونکہ ایک کو عادت ہو تی ہے سؤر نہ کھانے کی اس لئے سؤر کے ذکر پر اس کے دل میں نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور چونکہ دوسرے کو عادت ہو تی ہے سؤرکے استعمال کی اس لئے اس کے دل میں کوئی نفرت پیدا نہیں ہو تی۔اگر اس کے الٹ ہو تا تونتیجہ بھی اس کے خلاف رو نما ہو تا۔مثلاً اگر ہندوؤں میں گائے کھانے کا رواج ہو تا اور انگریزگائے سے پر ہیز کرتے تو یہی بات آج الٹ ہو جاتی ہندوگائے کے گوشت سے کبھی برا نہ مناتے اور انگریز گائے کے گوشت کا ذکر سن کر ہی تھو تھو کرنے لگ جاتے اسی طرح وہ کہتے ہیں اگر مسلمانوں میں سؤر کا رواج ہو تا تو ان کو بھی یہ بات بری نہ لگتی۔پس یہ طبیعت کی بات نہیں عادت کی بات ہے۔جس بات کے کرنے کی انسان کو عادت ہو تی ہے اس پر وہ برا نہیں مناتا اور جس بات کی انسان کو عادت نہیں ہو تی اس پر وہ برا مناتا ہے لیکن یہ بات درست نہیں۔اوّل تو ا س قسم کی مثالیں حقیقت کو ثابت نہیں کرتیں۔سوال گائے کے گوشت اور سؤر کے گوشت کا نہیں۔اس کو کوئی بھی طبعی نہیں کہتا یہ مذہبی احکام ہیں اور مذہبی احکام اور طبعی احکام میں فرق ہو تا ہے۔یہاں سوال نفس لوّامہ کا ہے شریعت کا نہیں سؤر اور گائے کا تعلق شریعت سے ہے نفس لوّامہ سے نہیں۔ہم تو خود مانتے ہیں کہ چونکہ گائے کا گوشت مسلمانوں میں جائز ہے اس لئے اس کا استعمال مسلمانوں کو برا نہیں لگتا اور چونکہ گائے کا گوشت ہندوؤں میں ناجائز ہے اس لئے انہیں اس کا ذکر برا لگتا ہےیا سؤر کا گوشت چونکہ مسلمانوں میں جائز نہیں اس لئے مسلمانوں کو اس کا ذکر بر الگتا ہے اور چونکہ سؤر کا گوشت عیسائیوں میں جائز ہے اس لئے انہیں اس کا ذکر برا نہیں لگتا۔یہ درست ہے بلکہ ہم خود اس بات کے قائل ہیں کہ شرعی احکام کو برا یا بھلا ماننا فطرت پر دلالت نہیں کرتا یہ شریعت کی تفصیلات ہیں جن کو انسان اچھا یا برا سمجھنے پر مجبور ہو تا ہے۔جس چیز کو ہم نفس لوّامہ کہتے ہیں وہ اخلاقی پابندیاں ہیں ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ہر قوم میں ان کا وجود پایا جاتا ہے۔مثلاً گائے یا سؤر کے متعلق ہم مان لیتے ہیں کہ ان کا خاص قوموں کے ساتھ تعلق ہے لیکن جھوٹ بولنا، فریب کرنا، ریا کاری کرنا، احسان فرا موشی کرنا، قومی غداری کرنا یہ کسی قوم سے مخصوص نہیں۔جہاں تک شریعت کے احکام کا تعلق ہےمسلمان اگر نماز نہیں پڑھتا تو اسے گھبراہٹ ہو تی ہے روزہ نہیں رکھتا تو اسے گھبراہٹ ہو تی ہے بلکہ اگر وہ بیمار بھی ہو تا ہے تو بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی رخصتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے غلطی سے روزہ رکھ لیتا ہے۔اسی طرح ہندوؤں میں شرادھ وغیرہ کی قسم کے شرعی احکام پائے جاتے ہیں یا بعض قسم کے روزے ان میں پائے جاتے ہیں یا مردے کا جلانا ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ طبعی احکام ہیں۔مردے کا جلانا طبعی نہیں بلکہ شرعی امر ہے اگر مسلمانوں میں جلانے کا