تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 529

اور ہندوؤں میں دفنانے کا رواج ہو تا تو یہ اس پر خوش ہو تا اور وہ اس پر خوش ہو تا۔ہم جب اس نفس لوّامہ کا ذکر کرتے ہیں جو شریعت کے بغیر بھی انسان کو نیکی کی طرف مائل کرتا ہے تو ہم نیکی سے مراد اس وقت شرعی احکام نہیں لیتے بلکہ اخلاق مراد لیتے ہیں۔پس یہ نفس لوّامہ شریعت کے احکام سے تعلق نہیں رکھتا۔ضمیر شریعت کے احکام سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ ان طبعی نیکیوں سے تعلق رکھتی ہے جو تمام مذہب میں تسلیم شدہ ہیں۔یہ فرق تو ضرور ہے کہ مسلمان کہے گا اس طرح نماز پڑھو اور ہندو کہے گا اس طرح پڑھو مگر کیا کوئی مذہب ایسا بھی نظر آسکتا ہے جو یہ کہے کہ سچ نہ بولو۔ایسے مذہب تو ضرور ہیں جو ایسی باتیں کہلواتے ہیں جو جھوٹی ہو تی ہیں مگر منہ سے وہ یہ نہیں کہتے کہ جھوٹ بولو۔یہ ضرور ہے کہ بعض مذاہب کی طرف ظالمانہ تعلیمیں منسوب کی گئی ہیں۔مثلاً یہ کتنا بھیانک عقیدہ ہے جومسلمانوں میں پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی کافر ہو تو اسے مار ڈالو۔یہ اسلام کی تعلیم نہیں۔مسلمانوں نے اسلام کی طرف منسوب کر دی ہے لیکن کسی مسلمان مولوی سے پوچھ دیکھو کہ کیا قرآن کریم میں یہ آتا ہے کہ ظلم کرو یا یہ آتا ہے کہ ظلم نہ کرو؟ تو وہ یہی جواب دے گا کہ قرآن کریم کی تعلیم یہی ہے کہ ظلم نہ کرو مگر وہ بعض ظالمانہ کام غلطی سے اسلام کی طرف منسوب کر دے گا۔اسی طرح ہندو مذہب بیسیوں باتیں ایسی بتائے گا جو ظالمانہ ہوں گی۔لیکن جب پوچھو تو سارے پنڈت یہی کہیں گے کہ ہمارے مذہب کا حکم یہی ہے کہ ظلم نہ کرو۔غرض شریعت کے احکام میں تو اختلاف ہو جاتا ہے لیکن طبعی اصول میں اختلاف نہیں ہوتا۔کوئی زرتشتی، ہندو، عیسائی یا کسی اور مذہب کا پیرو یہ نہیں کہے گا کہ ہمارے مذہب میں یہ تعلیم پائی جاتی ہے کہ امن سے نہ رہو، خیانت کرو، جھوٹ بولو، ظلم کرو، یہ اصولی نیکیاں ہیں اور انہی سے نفس لوّامہ کا تعلق ہے۔ان امور کے بارہ میں خود بخود انسان کی حالت اسے مجبور کر دیتی ہے اور کسی نہ کسی وقت وہ اپنے افعال پر شرمندہ ہوجاتا ہے۔حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک دفعہ ایک چور علاج کے لئے آیا۔آپ بڑے پایہ کے طبیب تھے اور ہر قسم کے لوگ آپ کے پاس آتے رہتے تھے۔آپ نے اسے فرمایا کہ تم نے یہ کیا گناہ کا طریق اختیار کیا ہوا ہے کہ لوگوں کا مال لوٹتے اور اپنےگھر میں حرام مال ڈال لیتے ہو۔اس نے کہا واہ مولوی صاحب ہم حرام کماتے ہیں۔ہمارے مال سے زیادہ حلال روزی اور کس کی ہو سکتی ہے ہم رات کو جاتے ہیں اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں اور جب لوگ سو رہے ہو تے ہیں ہم محنت و مشقت کر تے ہیں آخر محنت سے ہی رزق حلال ہو تا ہے۔آپ نے فرمایا اس کے جواب سے میں نے سمجھ لیا کہ اس کی فطرت صحیحہ دب گئی ہے۔چنانچہ میں نے اس سے اور باتیں شروع کر دیں۔پھر کچھ عرصہ کے بعد جب پہلی بات سے اس کا ذہن ہٹ گیا میں نے ا س سے پو چھا