تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 524
غلبہ حاصل ہوا اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ان میں قومی دماغ پایا جاتا تھا۔ورنہ مسلمانوں کی تعلیم رومیوں سے زیادہ نہیں تھی۔رومی سالوں تک مسلمانوں کو پڑھا سکتے تھے۔اسی طرح جہاں تک تجارتی تمدن کا تعلق ہے مسلمان ایرانیوں سے بہت پیچھے تھے یہی حال دوسرے امور کا ہے۔مذہب کو چھوڑ کر کوئی ایک فردی خوبی بھی ایسی نہیں تھی جس میں مسلمان رومیوں اور ایرانیوں کا مقابلہ کر سکیں مگر پھر بھی یہ حالت تھی کہ مسلمان جہاں جاتا رومی بھی بھاگ جاتا اور ایرانی بھی بھاگ جاتا۔آخر وہ کیا چیز تھی جو مسلمانوں کو حاصل تھی۔وہ چیز یہی تھی کہ اسلام کے ذریعہ سے مسلمانوں میں قومی دماغ پیدا ہو چکا تھا اور قومی دماغ کا فردی دماغ مقابلہ نہیں کر سکتا۔قومی دماغ کا یہ مفہوم ہو تاہے کہ قوم کے ہر فرد میں یہ احساس ہو تا ہے کہ میں کچھ چیز نہیں اصل چیز قوم ہے۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صحابہ ؓ نے جو کچھ قربانیاں کیں وہ اس بات کا ایک بیّن ثبوت ہیں کہ کس طرح وہ ہر چیز میں قوم کے مفاد کو مدّ ِنظر رکھتے تھے۔دراصل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات فرد نہیں تھی بلکہ وہ ایک نشان تھی قومی عظمت کا۔اس لئے آپ کے لئے جو قربانیاں کی گئیں وہ فرد کے لئے نہیں تھیں بلکہ قوم کے لئے ہی تھیں۔ان کی قربانیوں کا اندازہ اسی واقعہ سے ہو سکتا ہے کہ ایک جنگ میں دشمن کی طرف سے تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی کہ حضرت طلحہؓ نے اپنا ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے سامنے کر دیا تاکہ کوئی تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ آلگے اور انہوں نے اپنا ہاتھ برابر اسی طرح رکھا یہاں تک کہ ان کا ہاتھ شل ہو گیا اور ساری عمر کے لئے بے کار ہوگیا(البخاری کتاب المغازی اذھمت طائفتین ان تفشلا)۔کیا جذبہ ایمان تھا کہ انہوں نے اُف تک نہ کی اور اپنے ہاتھ کو برابر تیروں کی بوچھاڑ میں کھڑے رکھا۔ایک دفعہ حضرت طلحہ ؓ سے کسی نے پو چھا کہ طلحہ جب تمہارے ہاتھ پر تیر لگتے تھے تو کیا تمہارے منہ سے اُف بھی نہیں نکلتی تھی؟ انہوں نے جواب دیا اُف تو نکلنا چا ہتی تھی مگر میں نکلنے نہیں دیتا تھا کیونکہ میں ڈرتا تھا کہ کہیں میرا ہاتھ ہل نہ جائے اور کوئی تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ آلگے۔یہ واقعہ ثبوت ہے اس بات کا کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم میں کوئی فرد باقی نہیں رہا۔ہمارا صرف یہی کام ہے کہ ہم قوم کے لئے یا قوم کے نشان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رات اور دن قربانیاں کریںاور اپنے آپ کو اسی راہ میں قربان کر دیں۔اُحد کی جنگ جب ختم ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو زخمیوں کی دیکھ بھال کےلئے روانہ کیا انہوں نے ایک انصاری صحابی کو دیکھا کہ وہ سخت نازک حالت میں ہیں۔وہ اس کے قریب گئے اور اس سے کہا کہ بھائی کوئی تمہارا پیغام ہو تو مجھے بتا دو میں تمہارے عزیزوں اور رشتہ داروں تک پہنچا دوں گا۔اس نے کہا کہ میں اسی تلاش میں تھا کہ مجھے کوئی مدینے والا ملے اورمیں اس کے ذریعہ اپنے رشتہ داروں کو ایک پیغام بھجواؤں۔