تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 523

بائیس۲۲ فیصدی نے چوالیس ۴۴ فیصدی کو مارا اور ایسی بری طرح مارا کہ انہیں ایک قدم بھی نکلنے نہیں دیا۔اسی وجہ سے کہ سکھوں میں قومی دماغ تھا مگر مسلمانوں میں صرف انفرادی دماغ تھا قومی دماغ نہیں تھا۔جب تک قومی دماغ نہ ہو اس وقت تک بڑے بڑے مصائب کا مقابلہ کبھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ کوئی بڑی ترقی کی جا سکتی ہے۔جس طرح انسانی جسم میں ہزاروں ہزار پیچیدہ کام کرنے والےاعضاء پائے جاتے ہیں۔دانت چباتے ہیں گلے کی نالیوں کے ذریعہ غذا معدہ میں پہنچتی ہے معدہ ا س کو ہضم کرتا ہے اور پھر اعلیٰ درجے کا خون دل و دماغ اور دوسرے اعضا ء میں جاتا اور انسانی زندگی کو بر قرار رکھتا ہے۔اسی طرح ان سے بھی زیادہ ایک اور اہم چیزجسم انسانی میں پائی جاتی ہے اور وہ روح ہے جس پر تمام حیات کا دارو مدار ہے اور جس کے متعلق سائنسدان بھی ابھی تک یہ معلوم نہیں کر سکے کہ وہ کیا چیز ہے۔بہرحال وہ ایک خلاصہ ہے ہزاروں ہزار پیچیدہ تغیرات کا۔بے شک وہ ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتی۔بے شک دنیا یہ نہیں کہہ سکتی کہ وہ جسم انسانی کے کون سے عضو میں پوشیدہ ہے مگر اس سےانکار نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی چیز ایسی ضرور ہے جس کی عدم موجودگی انسانی جسم کو بالکل بے کار بنا دیتی ہے۔جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے جسم کی سب چیزیں موجود ہو تی ہیں کہیں غائب نہیں ہو جاتیں۔دل بھی ہو تا ہے، دماغ بھی ہوتا ہے، معدہ اور جگر اور انتڑیاں بھی ہو تی ہیں، ہاتھ اور پاؤں بھی ہو تے ہیں مگر دل اور اعصاب کا تمام نظام یک دم بے کار ہو جاتا ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ کوئی اور چیز انسانی جسم میں ضرور ہے۔وہ انگلی میں ہے یا بازو میں، دل میں ہے یا دماغ میں، ہمیں اس کا علم نہیں مگر اس کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔جس طرح انسانی جسم میں روح موجودہو تی ہے اور اسی پر تمام حیات کا دارو مدار ہو تا ہے اسی طرح ایک قومی روح بھی ہو تی ہے اور ایک قومی دماغ بھی ہو تا ہے۔جب تک کسی قوم میں قومی دماغ قائم رہتا ہے وہ تمام اقوام پر غالب رہتی ہے اور کوئی قوم ا س کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی۔انگریزوں کو لے لو ان میں قومی دماغ ہےجس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ دوسری اقوام پر غالب رہتے ہیں۔جرمن طنزاً کہاکرتے ہیں کہ انگریز بڑا جاہل ہے وہ اچھے عالم پیدا نہیں کر سکتا۔فرانسیسی طنزاً کہا کرتا ہے کہ انگریز صرف نقّال ہے وہ موجد پیدا نہیں کر سکتا۔چنانچہ جہاں تک انفرادی ایجادات کا تعلق ہے انگریز جرمنوں کا ہر گز مقابلہ نہیں کر سکتے فلسفہ کا سوال آئے تو یقیناً انگریز جرمن کا خوشہ چین ہے۔ادب اور اخلاق کا سوال آئے تو یقیناً انگریز فرانس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔آرٹ میں بھی فرانس اور اٹلی کا مقابلہ انگریزوں کے بس کی بات نہیں۔مگر باجود اس کے کہ جرمن اور اٹلی اور فرانس والوں کا انفرادی دماغ بہت اعلیٰ ہے پھر بھی قومی لحاظ سے انگریز ہمیشہ غالب رہتے ہیں اس لئے کہ گو انگریزوں کا انفرادی دماغ اتنا اعلیٰ نہیں مگر قومی دماغ ان میں پایا جاتا ہے اور اس وجہ سے وہ ہمیشہ غالب رہتے ہیں۔ابتدا زمانہ اسلام میں مسلمانوں کو جو